رسائی کے لنکس

لیبیا کو درپیش بحران میں ترکی کا کردار

  • ڈورین جونز

لیبیا کو درپیش بحران میں ترکی کا کردار

لیبیا کو درپیش بحران میں ترکی کا کردار

لیبیا میں معمر قذافی اور ان کے مخالفین کے درمیان جو جنگ جاری ہے، اس میں ترکی خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ لیبیا میں کرنل قذافی کی فوجوں اور باغیوں کے درمیان جنگ زور پکڑتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی ترکی نے اس جنگ کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ترکی ان چند ملکوں میں شامل ہے جن کا سفارت خانہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں اب بھی کام کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی، باغیوں کے مرکز بن غازی میں بھی اس کا قونصل خانہ موجود ہے۔

ترکی کے اعلیٰ سفارت کار سلیم ین ایل کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا لیبیا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ’’ترکی اب دونوں فریقوں سے بات کر رہا ہے۔ میرے خیال میں ہم ان چند ملکوں میں شامل ہیں جو دونوں ملکوں سے بات کر سکتے ہیں۔ بالآخر اس مسئلے کا حل یہی ہے ورنہ فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جائے گا اور لوگ اور زیادہ مشکلات میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ہمیں اس مسئلے کا کوئی حل معلوم کرنا چاہیئے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام ڈپلومیٹک طریقے سے ہی کیا جا سکتا ہے‘‘۔

ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردگان کے لیبیا کے لیڈر معمر قذافی کے ساتھ تعلقات اچھے رہے ہیں اور ابھی کچھ دن پہلے تک انھوں نے فوجی مداخلت اور خاص طور سے اس میں نیٹو کے ملوث ہونے کی سخت مخالفت کی تھی۔

لیکن اس کے بعد مسٹر اردگان نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے اوراب وہ نیٹو کی حمایت کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ قذافی اقتدار سے دستبردار ہو جائیں۔ اگرچہ ان کے موقف میں اس قسم کی تبدیلی سے ترکی کی غیر جانبداری کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں لیکن سفارتی نامہ نگار

سمیع ایدیز(Semih Idiz) کہتے ہیں کہ ترکی ثالث کا کردار ادا کرنے کی منفرد پوزیشن میں ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ ترکی میں کچھ منفرد خصوصیات ہیں جو اس کے اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ نیٹو کا رکن بھی ہے۔ لیکن اگر آپ ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں، تو یہ آپ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ آ پ کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ان لوگوں کو کرنا ہے جن کے درمیان آپ ثالثی کر رہے ہیں۔‘‘

استنبول کی Bahceshir University میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر چنگیز اختر کہتے ہیں کہ ثالثی کا کام بہت مشکل ہو گا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر قذافی کا تختہ الٹ گیا تو پھر کیا ہوگا۔ ’’لیبیا میں کوئی منظم حزبِ اختلاف نہیں ہے۔ خود لیبیا میں کسی قسم کا نظام موجود نہیں ہے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قذافی کے جانے کے بعد کیا ہوگا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ میرے خیال میں تو یہ افراتفری کا سامان ہو رہا ہے‘‘۔

ترک وزیرِاعظم اردگان اور صدرعبداللہ گل دونوں نے انتباہ کیا ہے کہ لیبیا میں عراق یا افغانستان جیسے حالات پیدا ہو سکتےہیں۔ دونوں لیڈروں نے فرانس کی طرف سے ہوائی حملوں کی زبردست حمایت پر فرانس پر تنقید کی۔

ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان ین ایل نے کہا کہ فرانس نے جتنی عجلت میں طاقت کا استعمال کیا اس سے سیاسی تصفیے کے امکانات تباہ ہو گئے۔’’ہم نے دونوں فریقوں سے رابطہ قائم کیا ہوا تھا۔ ہمارے وزیرِ اعظم تین بار قذافی سے بات کر چکے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے فوجی حملے بڑی عجلت میں شروع کر دیے گئے۔ فرانسیسوں نے ہم سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھا۔ اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا تو ہم فوجی دھمکیوں کے استعمال سے قذافی کو کسی سیاسی حل کے لیے آمادہ کر لیتے‘‘۔

دوسری طرف فرانس کا دعویٰ ہے کہ اگر تیزی سے کارروائی نہ کی گئی ہوتی تو لیبیا میں بے تحاشا خون خرابہ ہوتا۔

XS
SM
MD
LG