رسائی کے لنکس

ترک وزیراعظم فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں فکرمند

  • ڈوریان جونز

وزیراعظم رجب طیب اردوان

وزیراعظم رجب طیب اردوان

بعض مبصرین نے انتباہ کیا ہے کہ فوج کے کچھ حلقوں میں ترکی کی سیاست میں دخل دینے کی روایت ابھی باقی ہے۔

ترکی کےوزیرِ اعظم رجب طیب اردوان نے ان سینکڑوں فوجی افسروں کی طویل حراست ختم کرنے کے لیے کہا ہے جو حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار ہیں۔ انھوں نے پہلی بار اعتراف کیا کہ اس سے فوجیوں کی صلاحیتوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔

ترکی میں فوج میں کام کرنے والے اور ریٹائرڈ سینکڑوں افسر برسوں سے جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ مسٹر اردون کی حکومت کے خلاف سازشوں کے الزام میں اپنے خلاف مقدموں کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن وزیر ِ اعظم نے طویل عدالتی کارروائی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے، اور یہ بات تسلیم کی ہے کہ فوج پر اس صورتِ حال کے بڑے خراب اثرات پڑے ہیں۔

شام اور ایران میں طویل بحران جاری ہے، اور ان حالات میں ملٹری کے کمزور ہونے سے، ترکی کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ترکی کے فوجی امور کے ماہر گاریتھ جینکنز کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں تشویش کی معقول وجہ موجود ہے۔

’’فوج کی تنظیم پر اس کا برا اثر پڑ اہے ، صرف اس لیے نہیں کہ اس کا عملہ جیل میں ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ جو لوگ اب تک قید نہیں کیے گئے ہیں، انہیں یہ فکر ہے کہ ان کی باری بھی آ سکتی ہے ۔ شام میں جو کچھ ہونے والا ہے اگر آپ اس کے بارے میں سوچیں تو یہ صورتِ حال تشویشناک ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اپنے جنوبی ہمسایوں کے ساتھ ترکی کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی اس کے تعلقات خراب ہیں اور عراق میں صورتِ حال بہت الجھی ہوئی ہے۔ اس وقت ترکی کی فوج کو انتہائی اچھی حالت میں ہونا چاہیئے۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گذشتہ مہینے ایک سینیئر ایڈمرل کے استعفے کی وجہ سے انقرہ میں کھلبلی مچ گئی۔ یہ ایڈمرل ترکی کی بحریہ کی کمان سنبھالنے والے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے استعفے کی وجہ یہ تھی کہ جاسوسی کی مبینہ سازش کی بنا پر، بحریہ کے سینیئر افسروں کی بہت بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سیاسیات کے ماہر استنبول کی باغچہشہر یونیورسٹی کے پروفیسر چنگیز اختر کا خیال ہے کہ عدالتی کارروائی پر وزیرِ اعظم نے جو تنقید کی ہے، اس سے ترکی کی سیاست میں آنے والے بعض اہم تبدیلیوں کی نشاندہی ہوتی ہے ۔

’’ادھر کچھ عرصے سے ، حکومت اور وزیرِ اعظم فوج کے ساتھ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے طریقے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ وزیرِ اعظم سوچتے ہیں کہ ملک کو فوج کے اثرو رسوخ سے نکالنے پر کافی کام ہو چکا ہے، اور اب اس سے مزید فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

لیکن ترک روزنامے طرف میں دفاعی امور کی ماہر لالے کمال کو تشویش یہ ہے کہ اگر فوج کے اندر جمہوریت مخالف فورسز کے خلاف کارروائی میں نرمی لائی گئی، تو ہو سکتا ہے کہ ملک کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے ۔

وہ کہتی ہیں ’’جون 2011 کے انتخابات کے بعد، حکومت نے فوج میں اصلاحات کا پورا عمل ختم کر دیا ہے۔ مسلح افواج کی کارروائیوں پر سویلین جمہوری نگرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے ۔ اگر آپ نے اصلاحات مکمل نہ کیں، تو مستقبل میں آپ کی فوج ہمیشہ بغاوتوں کے منصوبے بناتی رہے گی۔‘‘

1960 سے اب تک، ترکی کی فوج نے چار بار حکومتوں کا تختہ الٹا ہے ۔ بعض مبصرین نے انتباہ کیا ہے کہ فوج کے کچھ حلقوں میں ترکی کی سیاست میں دخل دینے کی روایت ابھی باقی ہے۔ گذشتہ مہینے کے شروع میں، کرپشن پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ترکی کی حکومت پر تنقید کی کہ اس نے مسلح افواج کو کھلی چھٹی دے دی ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ علاقے میں شورش اور بد امنی میں روز افزوں اضافے کی وجہ سے، مسٹر اردوان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ مسلح افواج طاقتور ہوں۔
XS
SM
MD
LG