رسائی کے لنکس

انسدادِ دہشت گردی کا ادارہ استنبول میں قائم کیا جائے: ترکی


استنبول

استنبول

اسلامی ملکوں کی تعاون تنظیم کے اجلاس میں دہشت گردی اور مہاجرین کا بحران مرکزی معاملے ہیں۔۔ رجب طیب اردوان نے یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران کی اصل وجوہات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا؛اور کہا ہے کہ شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کا مغرب کا انداز ’’تضاد‘‘ کا شکار ہے

ترکی کے صدر نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مغربی اور مسلمان ملکوں مابین قریبی رابطے پر زور دیتے ہوئے، اسلامی ملکوں کی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہان سے کہا ہے کہ ’’اِس مسئلے کو سکیورٹی اور مالی محاذوں پر لڑا جانا چاہیئے‘‘۔
اُنھوں نے یہ بات جمعرات کے روز استنبول میں اسلامی ملکوں کے تنظیم کے تیرہویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

رجب طیب اردوان نےیورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران کی اصل وجوہات کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اردوان کے بقول، ’’ایک بار پھر، میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ دہشت گرد تنظیم پر اپنے مؤقف پر نظر ثانی کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انسداد دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے لیے اِس کی مالی حمایت روکیں اور دہشت گرد تنظیموں میں لوگوں کی شمولیت کے رجحان کو بند کریں، ساتھ ہی میدانِ عمل میں کھل کر ضروری کارروائی کی جائے‘‘۔

ترک صدر نے مغرب پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کا اُس کا انداز ’’تضاد‘‘ پر مبنی ہے۔

بقول اُن کے، ’’یہ مبہم رویہ ہمیں دکھ پہنچاتا ہے۔ تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑائی میں پورے عزم کا مظاہرہ کیا جانا چاہیئے۔ وہ (مغربی) ممالک جو ہمارے انتباہ پر دھیان نہیں دیتے، اُنھیں ذاتی طور پر نتائج بھگتنے پڑیں گے؛ فی الواقع یہی کچھ ہو رہا ہے‘‘۔

ترکی اسلامی ملکوں کی تنظیم کے اجلاس کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں ترکی کی حیثیت متنازع ہے، کسی حد تک اِس بِنا پر کہ صدر اردوان کے سابق مصری صدر محمد مرسی کے ساتھ تعلقات ہیں، جنھیں سنہ 2013 میں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مصر کے موجودہ صدر، عبدالفتح السیسی تقریب میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔

اسلامی ملکوں کی تعاون تنظیم کے اس اجلاس میں دہشت گرد اور مہاجرین کا بحران دو مرکزی معاملات ہیں۔ اردوان نے اعلان کیا ہے کہ 57 رُکنی ادارے نے ترکی کی یہ تجویز منظور کی ہے کہ دہشت گردی کے انسداد کا ادارہ استنبول میں قائم ہوگا۔

دو روزہ سربراہ اجلاس کے ایجنڈے میں فلسطینی علاقہ جات، لیبیا، یمن، شام اور آزربائیجان کے خطے میں واقع متنازع نگورنو کاراباخ کے معاملات پر گفتگو شامل ہوگی، ایسے میں جب آزری اور آرمینی نسل کی افواج کے درمیان تشدد آمیز جھڑپوں کا نیا سلسلہ جاری ہے۔

سربراہ اجلاس کے دوران، ترکی اسلامی ملکوں کی تنظیم کی صدارت سنبھالے گا، جو عہدہ مصر کے پاس تھا۔ چھپن ملکوں کے نمائندے، جن میں 33 صدور اور وزرائے اعظم شامل ہیں، اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG