رسائی کے لنکس

’شام طیارے پر حملے کی تحقیقات میں ترکی سے تعاون کرے‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان نے شام کی افواج کی جانب سے ترک فضائیہ کا طیارہ مار گرانے کے پر ’’گہرے دکھ اور افسوس‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات پر زور دیا ہے۔

ترکی میں حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ جمعہ کو معمول کی تربیتی پرواز پر تھا اور وہ ’’غیر ارادی‘‘ طور پر کچھ وقت کے لیے شام کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا لیکن شام کی افواج نے واپسی کے کئی منٹ بعد اس کو نشانہ بنایا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے پیر کو جاری کیے گئے مختصر بیان میں اس ’’بلا اشتعال افسوس ناک‘‘ واقعے پر ترکی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شام پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے محرکات کا جائزہ لینے میں ترک حکام سے تعاون کرے۔

’’پاکستان اس اہم خطے میں امن و استحکام اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے احترام کا خواہاں ہے۔ ہم ہر اُس اقدام میں تحمل کی درخواست کرتے ہیں جو خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔‘‘

ترکی کا کہنا ہے کہ اس کے طیارے کو بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے مار گرایا گیا۔

مگر شام کا دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے ساحلی علاقے کے قریب پرواز کر رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG