رسائی کے لنکس

ملک کی ایک ٹریڈ یونین جو لگ بھگ دو لاکھ پچاس ہزار افراد کی نمائندگی کرتی ہے، اس نے بھی مظاہرین کے خلاف پولیس کے ’کریک ڈاؤن‘ پر منگل سے دو روزہ ہڑتال شروع کی ہے۔

ترکی میں ایک سبزہ زار میں تجارتی تعمیراتی منصوبے کے خلاف منگل کو پانچویں روز بھی مظاہرے جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملک کے دو بڑے شہروں استنبول اور انقرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

گزشتہ چار دنوں کی طرح پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔

ملک کی ایک ٹریڈ یونین جو لگ بھگ دو لاکھ پچاس ہزار افراد کی نمائندگی کرتی ہے، اس نے بھی مظاہرین کے خلاف پولیس کے ’کریک ڈاؤن‘ پر منگل سے دو روزہ ہڑتال شروع کی ہے۔

ترک صدر عبداللہ گل نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے تاہم اُنھوں نے مظاہرہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان جے کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کو ترکی میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی اطلاعات پر تشویش ہے۔

امریکہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے اجتناب کریں۔ ترجمان نے کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت میں لوگوں کا بنیادی حق ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی پرامن مظاہروں کے حق میں اسی طرح کا بیان دیا ہے۔

ترکی میں مظاہروں کا آغاز استنبول کے تقسیم چوک کے ایک باغ (سبزہ زار) میں تجارتی تعمیرات کےخلاف شروع ہوئے تھے جس کے بعد ان کا دائرہ دوسرے علاقوں تک بھی پھیل گیا۔

وزیراعظم رجب طیب اردوان نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے ان مظاہروں کے پیچھے "انتہا پسند عناصر" کا ہاتھ ہے۔

اُنھوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ اپنے احتجاج کو پرامن رکھیں۔

ترکی کی وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے 1700 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا تھا جن میں بیشتر کو بعد میں رہا کیا جا چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG