رسائی کے لنکس

ترک قیادت نے صورت حال کو پرامن رکھنے کی کوشش کی جب کہ ملک میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکام اور مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ پرامن اجتماع کریں۔

ترکی میں پولیس نے وزیراعظم رجب طیب اردوان کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور تیز دھار پانی استعمال کیا۔

ملک میں مظاہرے گزشتہ جمعہ کو شروع ہوئے تھے اور مظاہرین رجب طیب اردوان کے استعفٰی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بدھ کو مظاہروں کے چھٹے روز استنبول اور انقرہ میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

ترک قیادت نے صورت حال کو پرامن رکھنے کی کوشش کی جب کہ ملک میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکام اور مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ پرامن اجتماع کریں۔

اس سے قبل ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرنچ نے مظاہرین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کے خلاف ’’طاقت کا استعمال‘‘ غلط تھا اور حکومت نے اس سے ’’سبق سیکھا‘‘ ہے۔

تاہم نائب وزیراعظم نے اُن مظاہرین سے معافی مانگنے سے انکار کیا جنہوں نے املاک کو نقصان پہنچایا اور شہریوں کی آزادی میں خلل ڈالا۔

استنبول کے تقسیم چوک میں ایک عوامی باغ میں تجارتی تعمیراتی منصوبے کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے جن کا دائرہ بعد میں ملک کے دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا۔

ان مظاہروں میں دو افراد ہلاک جب کہ سینکڑوں شہری اور پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG