رسائی کے لنکس

'رقہ واگزار کرانے کے لیے، ترکی امریکہ کے ساتھ مشترکہ کارروائی پر تیار'


فائل

فائل

اردوان نے کہا ہے کہ ترک اور امریکی عسکری اہل کار ملاقات کرکے رقہ کو فتح کرنے کا معاملہ زیر غور لاسکتے ہیں، جو داعش کا فی الواقع دارالخلافہ ہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ داعش سے شام کے شہر رقہ کو واگزار کرانے کے لیے، ترکی امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ کسی بھی مستقبل کی کارروائی میں شامل ہونے پر تیار ہوگا۔
ترک ابلاغ عامہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اردوان نے یہ بات بدھ کو جی 20 اجلاس سے واپس ملک آتے ہوئے سفر میں شریک اخباری نمائندوں کو بتائی۔ چین میں منعقد ہونے والے اس سربراہ اجلاس کے احاطے سے باہر ملاقات کے دوران، یہ معاملہ امریکی صدر براک اوباما نے اٹھایا تھا۔
اردوان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’’رقہ کے سلسلے میں اوباما کچھ مشترکہ کارروائیاں کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہم نے بتایا کہ ہمارے لحاظ سے یہ کوئی مسئلہ نہیں‘‘۔
اُنھوں نے کہا کہ ترک اور امریکی عسکری اہل کار ملاقات کرکے رقہ کو فتح کرنے کا معاملہ زیر غور لاسکتے ہیں، جو داعش کا فی الواقع دارالخلافہ ہے۔
ادھر بدھ کے روز ایک بیان میں روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روس، جو شام کے حکومت کا حامی ہے، اُسے ترک افواج اور ترک پشت پناہی والے شامی مخالفین کی افواج کی جانب سے شام کے علاقے میں اندر گھس کر کارروائی کرنے پر تشویش لاحق ہے، جس سے، بیان کے مطابق، شام کی عسکری اور سیاسی صورت حال میں مزید بگاڑ آسکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اس سے شامی عرب جمہوریہ کے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی یکجہتی پر سوال اٹھتا ہے۔''

بیان میں ترکی پر زور دیا گیا ہے کہ ''ایسے اقدامات سے باز رہے جس بنا پر صورت حال مزید عدم استحکام کا شکار ہوجائے''۔
دو ہفتے قبل، ترکی کی فوج شام کے شمالی علاقے میں داخل ہوئی تھی، جس کا مقصد داعش کو ہٹانے کے لیے شامی باغیوں کی مدد کرنا تھا، اور ساتھ ہی کردوں کی 'وائی پی جی' ملیشیا کو نئے علاقوں پر قابض ہونے سے روکنا تھا۔

XS
SM
MD
LG