رسائی کے لنکس

ترکی: حکومت کے باغی کرد لیڈر سے مذاکرات جاری

  • ڈوریان جونز

مقید کرد رہنما کی تصویر اٹھائے ایک مظاہرے میں شامل لوگ (فائل فوٹو)

مقید کرد رہنما کی تصویر اٹھائے ایک مظاہرے میں شامل لوگ (فائل فوٹو)

اکدوگان نے اُمید ظاہر کی کہ باغی موسمِ بہار کے آنے تک اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور پی کے کے کے لیڈر جلا وطنی اختیار کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔

ترکی کی حکومت باغی کرد لیڈر عبداللہ اوکالان کے ساتھ، جو ترکی کی قید میں ہیں، مذاکرات کر رہی ہے۔ تاہم، یہ سوال ابھی باقی ہے کہ کیا حکومت ایسی اصلاحات کے لیے تیار ہے جن کے ذریعے باغیوں کو، ایسے وقت میں جب پورے علاقے میں، کردش قومیت کا زور ہے، لڑائی ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

ترکی کے وزیرِ اعظم کے ایک اعلیٰ مشیر، یلسن اکدوگان نے تصدیق کی کہ ترک انٹیلی جنس افسروں نے کردش گروپ پی کےکے (PKK) کے لیڈر سے، جو قید میں ہیں، بات چیت شروع کر دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا مقصد پی کے کے کو غیر مسلح کرنا ہے۔ آپ طاقت کے زور پر فتح حاصل نہیں کر سکتے۔ آپ کو دوسرے طریقے استعمال کرنے ہوتے ہیں، اور ان میں سے ایک طریقہ مذاکرات کا ہے۔‘‘

کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے ترک مملکت سے 1984ء سے لڑ رہی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 40,000 جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

اکدوگان نے اُمید ظاہر کی کہ باغی موسمِ بہار کے آنے تک اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور پی کے کے کے لیڈر جلا وطنی اختیار کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔

لیکن قادر ہیز یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہرسولی اوزیل پوچھتے ہیں کہ کیا حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری رعایتیں دینے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس تمام کوشش کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پی کے کے اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن ترکی کے کردوں کے ساتھ ہمارا ایک سیاسی مسئلہ بھی ہے جو بنیادی طور پر شہریت کا مسئلہ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ حکومت ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہے، اور اگر آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ 2014ء کا صدارتی انتخاب سر پر کھڑا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے لیے اس سمت میں جانا مشکل ہو گا کیوں کہ اس طرح ووٹروں کے بعض قدامت پسند اور قوم پرست حلقے جن پر حکومت انحصار کرتی ہے، برگشتہ ہو سکتے ہیں۔‘‘

مبصرین نے انتباہ کیا ہے کہ پی کے کے کو لڑائی سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔ گذشتہ سال کے دوران، تشدد 1990ء کی دہائی کی سطح پر واپس آ گیا ہے، جب یہ لڑائی عروج پر تھی۔

باغی زیادہ خود مختاری اور ثقافتی حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ لیکن چونکہ صدارتی انتخابات میں ابھی ایک سال باقی ہے، اس لیے استنبول میں قائم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ایڈم کے سربراہ سینان الجین کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ کچھ رعایتیں دے سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک طویل عمل ہو گا جو بہت آہستہ آہستہ چلے گا۔ میرے خیال میں اس معاملے میں دو انتہائی اہم مسائل ہیں۔ پہلا تو یہ کہ حکومت کتنی رعایتیں پیش کرنے کو تیار ہے۔ آج کل اسی معاملے پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ لیکن دوسرا مسئلہ، صحیح معنوں میں اعتماد کا مسئلہ ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ حکومت جن فریقوں سے مذاکرات کر رہی ہے، ان پر اسے کتنا اعتماد ہے۔ پھر یہ سوال بھی ہے کہ پی کے کے کے ارکان کس حد تک حکومت پر اعتبار کرتے ہیں کہ وہ جو وعدے کرے گی انہیں پورا کرے گی۔‘‘

اوکلان ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے امرالی کے جزیرے میں قید ہیں اور اپنے حامیوں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ پی کے کے پر ان کا کتنا اثر و رسوخ باقی ہے، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

سیاسی مبصر اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ گذشتہ سال جب ترک حکومت نے قید کیے ہوئے کردش باغیوں کی طویل بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے اوکلان سے مدد مانگی، تو ان کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہو گیا۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر اوزیل کہتے ہیں کہ حکومت کے لیے یہ دکھانے کا یہ بڑا اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ وہ کردوں سے سلسلہ جنبانی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ’’کردوں کی قوم پرست علاقائی تحریک اب ساری دنیا میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے۔ عراق میں نیم آزاد کردستان قائم ہو چکا ہے، شام کے شمال میں خود مختار کردش علاقے موجود ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ ترکی کے کرد اس تمام پیش رفت میں پیچھے رہ گئے ہیں۔‘‘


اوکلان اور حکومت کے درمیان آخری بار ہونے والے مذاکرات دو برس پہلے منقطع ہوگئے تھے۔ ان مذاکرات کے ختم ہونے کے بعد، لڑائی میں نمایاں اضافہ ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اب جب کہ ترکی میں صدارتی اور عام انتخابات 2014ء اور 2015ء میں ہونے والے ہیں، کردوں کے ساتھ مذاکرات آنے والے بہت سے برسوں کے لیے، کامیابی کا بہترین موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG