رسائی کے لنکس

ترکی میں آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم کی تیاری

  • ڈوریان جونز

ریفرنڈم کے سلسلے میں منعقدہ ایک ریلی

ریفرنڈم کے سلسلے میں منعقدہ ایک ریلی

اس اختتامِ ہفتہ ترکی کے لوگ اصلاحات کے ایک پیکیج پر ریفرنڈم کے بارے میں ووٹ ڈالیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے ا ن اصلاحات سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور 1982 کا آئین یورپی معیار کے قریب تر آ جائے گا۔ یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے ترکی جو کوششیں کر رہا ہے، یہ اقدام ان کے لیے بہت اہم ہے۔ لیکن حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت آئین میں جو ترامیم کر رہی ہے، ان سے ملک کی عدالتوں پر حکومت کا کنٹرول بڑھ جائے گا۔

اس اتوار کو جو ریفرنڈم ہونے والا ہے، اس کے لیے بر سرِ اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی یا اے کے پی کا پیغام یہی ہے کہ اس کی حمایت میں ووٹ ڈالیے ۔ ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان ملک گیر انتخابی مہم میں یہ سادہ سا پیغام دے رہے ہیں کہ یہ لوگوں کے لیے موجودہ آئین سے جان چھڑانے کا بڑا اچھا موقع ہے جسے 1982میں ملک کے فوجی حکمرانوں نے تحریر کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ا ب فیصلہ آپ کے ہاتھوںمیں ہے ۔ ایک طرف فوجی آمروں کا آئین ہے ، اور دوسری طرف عوام کا آئین ہے ۔

اصلاحات سے فوجی عدالتوں پر سویلین عدالتوں کے اختیارات میں اضافہ ہو جائے گا اور تجزیہ کار کہتےہیں کہ اس طرح 1980 کے اس فوجی انقلاب کے لیڈروں کے خلاف مقدموں کی راہ ہموار ہو جائے گی جس کے نتیجے میں بہت سے سرگرم ترک سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا، اذیتیں دی گئی تھیں اور عدالتی کارروائی کےبغیر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

استنبول کی Bahcesehir یونیورسٹی کے پروفیسر چنگیز اختر کہتے ہیں’’یہ بات واضح ہےکہ یہ ترامیم 1982 کے آئین کی روح کے سرا سر خلاف ہیں۔ ان کے مندرجات کے اثرات بڑے دور رس ہوں گے خاص طور سے سیاسی زندگی میں فوج اور عدلیہ کی مداخلت کے اعتبار سے ۔‘‘

مجوزہ تبدیلیوں کے تحت، عورتوں اور ٹریڈ یونینوں کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔لیکن سب لوگ اس خیال سے متفق نہیں کہ اتوار کے ووٹ سے ترکی میں جمہوریت کو فروغ ملے گا۔ملک کی حزبِ اختلاف کی دائیں اور بائیں بازو کی پارٹیاں عدالتی نظام میں اصلاحات کی مخالف ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ اس طرح پارلیمنٹ اور صدر کو ججوں اور پراسیکیوٹروں کی تقرری میں زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ عثمانیہ سلطنت کے زوال کے بعد، جب مصطفی کمال نے 1923 میں ملک میں سیکولر حکومت قائم کی، اس وقت سے عدالتیں روایتی طور پر ترکی میں سیکولر معاشرے کی محافظ رہی ہیں۔

ترکی کی اپیلیں سننے والی عدالت کے سربراہ، Hassan Gerceker نے مجوزہ اصلاحات کو منظور کرنے کے خلاف انتباہ کیا ہے ۔’’اس آرٹیکل سے قوانین کی بالا دستی ، بنیادی حقوق اور آزادیوں کو، نیز سماجی اور سیکولر قانون کی حکمرانی کو تحفظ ملتا ہے۔ آئینی ترامیم کے نتیجے میں، عدالتوں اور انتظامی طاقت کے درمیان ٹکراؤ میں اضافہ ہو جائے گا، کیوں کہ ترامیم سے عدالتوں کی خود مختاری پر حرف آئے گا اور عدلیہ میں ان کے اختیارات کم ہو جائیں گے۔

حکومت نے عدالتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے اعلیٰ طبقے کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ اصلاحات سے عدلیہ میں جمہوری رنگ غالب آ جائے گا۔

Kemal Kilicdaroglu ملک کی سب سےبڑی سیکولر سیاسی فورس، ریپبلیکن پیپلز پارٹی کے لیڈر ہیں۔ مجوزہ آئینی تبدیلیوں کے خلاف مہم چلاتے ہوئے انھوں نے اپنی توجہ ترکی میں کرپشن، غربت اور بے روزگاری پر مرکوز کی ہے ۔جنوبی ترکی میں کاشتکاروں کے ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے، انھوں نے پوچھا کہ کیااے کے پارٹی کے آٹھ سال کے دورِ حکومت میں ان کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ کاشتکاروں نے زور دار آواز میں کہا ، نہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، 90 فیصد ترک مجوزہ آئینی تبدیلیوں سے مانوس نہیں ہیں۔

ریفرنڈم کی مہم کے شروع میں، حکومت نے دعویٰ کیا کہ اسے کافی سبقت حاصل ہے۔ نائب وزیرِ اعظم Bulent Arinc نے پیش گوئی کی کہ ساٹھ فیصد سے زیادہ سے زیادہ ووٹر اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالیں گے ۔لیکن اس کے بعد سے ، بیشتر جائزوں میں آئینی ترامیم کی حمایت میں کمی آئی ہے ۔

سیاسی کالم نگار، Nuray Mert کہتے ہیں کہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترک معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔’’ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس ریفرنڈم میں بہت معمولی سی اکثریت سے فیصلہ ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر معاملے میں ترکی دو حصوںمیں بٹ گیا ہے ۔ کردش مسئلے کے بارے میں ، سیکولر ازم اور قدامت پسندی کے سوال پر، سیکولرازم اور جمہوریت کی تعریف کے سوال پر، غرض ہر معاملے میں ترکی دو کیمپوں میں بٹ گیا ہے اور اختلافات روز بروز وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔ ترکی ایک بحران سے دوچار ہے اور یہ مسئلہ مستقبل ِ قریب میں حل ہوتا نظر نہیں آتا۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اتوار کے ریفرنڈم کے نتیجے کا انحصار ملک کی کردش اقلیت پر ہو سکتا ہے جو ملک کی کل آبادی کا بیس فیصد ہے ۔ پیس اینڈ دیموکریسی پارٹی نے جو کردوں کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اصلاحات میں کردوں کے مسئلے پر توجہ نہیں دی گئی ہے ۔

XS
SM
MD
LG