رسائی کے لنکس

ترکی:ریفرنڈم میں حکومت کی فتح اور مخالفین کے خدشات

  • ڈوریان جونز

ترکی میں حکومت کو آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم میں فیصلہ کن فتح حاصل ہو ئی ہے ۔بیرونی دنیا میں اس نتیجے پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن مخالفین نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو کم کرنا چاہتی ہے ۔

اتوار کے آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم میں فتح کا جشن منانے والوں میں وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے ساتھ ان کے ہزاروں حامی شامل تھے ۔ ریفرنڈم میں انہیں جتنے زیادہ ووٹ ملے ہیں، اس پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی ہے، لیکن اپنے حامیوں سے خطاب کرتے وقت مسٹر اردگان فراخ دلی کا تاثر دینا چاہتے تھے ۔انھوں نے کہا’’12 ستمبر تاریخ میں ایسے دن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا جب ترکی کی جمہوریت میں انقلاب آیا۔ یہ سب آپ کی بدولت ممکن ہوا۔ 12 ستمبر کا دن فوجی بغاوت کے دیے ہوئے آئین کی وجہ سے داغدار تھا، لیکن اب اس ریفرنڈم سے یہ ایک درخشاں دن بن گیا ہے ۔‘‘

ریفرینڈم کی مہم کے دوران، مسٹر اردگان نے بار بار کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ملک کو ماضی کے بندھنوں سے آزاد کرنا ہے جب فوج ترکی پر حکومت کرتی تھی۔موجودہ آئین فوج نے 1980 کی بغاوت میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد، 1982 میں تحریر کیا تھا۔

26 اصلاحات میں فوج کو سویلین عدالتوں کے تحت کرنا شامل ہے ۔ عورتوں اور ٹریڈ یونینوں کے حقوق میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔

کئی لیڈروں اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ریفرنڈم کے نتیجے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ ترکی کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی کے ایک رُکن رچرڈ ہاؤاٹ کہتے ہیں کہ اس نتیجے میں ان لوگوں کے لیے طاقتور پیغام موجود ہے جو یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے مخالف ہیں۔’’اگر اس ریفرنڈم کا جواب نا میں ہوتا، تو یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے مخالف بغلیں بجا رہے ہوتے اور کہتے کہ ترکی میں اصلاحات کے لیے واضح حمایت موجود نہیں ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ترکی کے لوگ واضح طور پر اصلاحات اور مستقبل میں یورپی یونین کی رکنیت چاہتےہیں۔‘‘

لیکن حزبِ اختلاف کی دو بڑی پارٹیوں کاکہنا ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں عدلیہ حکومت کے کنٹرول میں آ جائے گی اور یہ ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ بر سرِ اقتدار پارٹی کی جڑیں اسلام میں ہیں اور اس کے نتیجے میں مذہب کا غلبہ ہو سکتا ہے ۔

وسطی استنبول میں استقلال اسٹریٹ ایک بڑا کاروباری مرکز ہے ۔ یہاں ریفرنڈم کے بارے میں لوگوں کے خیالات بہت مختلف ہیں۔ایک صاحب کہہ رہےہیں کہ طیب اردگان مخلص اور ایماندار ہیں۔ ’’میں نے ریفرنڈ م میں ہاں میں ووٹ دیا اور میں ہمیشہ وزیرِ اعظم کی حمایت کروں گا کیوں کہ اس نئے نظام میں، فوجی بغاوت کرنے والے تمام لوگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے ۔‘‘

لیکن ایک اور صاحب کو ریفرنڈم کے نتیجے پر تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں’’ہو سکتا ہے کہ ٹرکش ریپبلک میں تبدیلی آ جائے اور اسلامی نظام قائم ہو جائے۔ ہمارے لیے یہ بہت برا ہوگا۔‘‘

وزیرِ اعظم اردگان اس قسم کے اندیشوں کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ملک کے 87 سالہ قدیم سیکولر نظام کو قائم رکھنے کے پابند ہیں۔ ریفرنڈم میں فتح کے بعد انھوں نے بالکل نئے آئین سمیت مزید اصلاحات کا عزم کیا ہے۔ Bahcesehir University میں سیاسیات کے پروفیسر چنگیز اختر کہتے ہیں کہ یہ عمل فوری طور پر شروع ہو جانا چاہیئے اور اس میں سب کو شامل کیا جانا چاہیئے۔’’ہمیں ملک میں ڈائیلاگ کے حالات پیدا کرنے چاہئیں اور یہ معلوم کرنے کے لیے کہ اس ملک کے صحیح معنوں میں جمہوری بننے کے لیے کس قسم کا سوشل کنٹریکٹ بہترین ہوگا، قومی اتفاقِ رائے حاصل کرنا چاہیئے ۔‘‘

اس ریفرنڈم کے ذریعے حکومت کو تبدیلی لانے کا اختیار مِل گیا ہے ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اگلے سال کے عام انتخابات سے قبل بر سر اقتدار AK پارٹی کے لیے حمایت موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک میں اختلافات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔

XS
SM
MD
LG