رسائی کے لنکس

نئے قانون کے تحت ترکی میں 23 مبینہ شدت پسندوں کی رہائی


نئے قانون کے تحت ترکی میں 23 مبینہ شدت پسندوں کی رہائی

نئے قانون کے تحت ترکی میں 23 مبینہ شدت پسندوں کی رہائی

ترکی میں حال ہی میں منظور کیے جانے والے ایک نئے قانون کے تحت 23 مبینہ شدت پسندوں کو سرکاری تحویل سے رہا کردیا گیا ہے۔ قانون کے تحت ملزمان کو مقدمہ چلائے بغیر دس سال سے زائد عرصہ حراست میں رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

استنبول اور ترکی کے جنوب مشرقی علاقے کی عدالتوں نے منگل کے روز ان افراد کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ رہا کیے گئے افراد میں "ترک حزب اللہ" نامی تنظیم کے 18 جبکہ کرد علاقوں کی رہائی کیلیے مسلح جدوجہد کرنے والی کالعدم تنظیم "کردستان ورکرز پارٹی " کے 5 ارکان شامل ہیں۔

مذکورہ افراد کی جانب سے انہیں سنائی گئی سزائوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں دائر اپیلوں کی سماعت طویل عرصے سے نہ ہونے کے باعث ان کی رہا ئی کا حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وکلاء برادری یکم جنوری سے نافذ ہونے والے نئے قانون کو اس بنیاد پر شدید تنقید کا نشانہ بنارہی ہے کہ اس کے ذریعے ملزمان اور مشتبہ افراد کو بغیر مقدمہ چلائے دس سال تک حراست میں رکھا جاسکے گا۔

وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ترک حکومت ملک کے انتہائی سست عدالتی نظام میں اصلاحات متعارف کراکے مشتبہ افراد کو طویل عرصہ تک حراست میں رکھنے کی روایت کا خاتمہ کرے۔ ناقدین کے بقول ملزمان کو بغیر عدالتی کاروائی کے حراست میں رکھنے کی مدت متعین کردینے سے کسی قسم کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقع نہیں۔

رہا کیے جانے والے افراد میں "ترک حزب اللہ" کے عسکری ونگ کے مبینہ سربراہ حاسی عنان اور تنظیم کے ایک اہم رہنما ایدیپ گمس بھی شامل ہیں۔ دونوں افراد کو ایک ترک عدالت کی جانب سے 2009 میں ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں اسلامی مملکت تشکیل دینے کی کوشش کرنے اور 188 افراد کو ہلاک کرنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

رہا کیے گئے افراد پر ملک چھوڑنے پر پابندی ہوگی اور انہیں اپنی نقل و حرکت سے متعلق پولیس کو مسلسل آگاہ رکھنا ہوگا۔

ترک میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق ترک جیلوں میں قید 50 ہزار سے زائد قیدی نئے قانون کے تحت اپنے مقدمات کی جانچ پڑتال اور رہائی کیلیے اپیلیں دائر کرسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG