رسائی کے لنکس

ہفتے کو کوئلے کی کان سے مزید دو مزدوروں کی لاشیں نکالے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 301 ہوگئی اور حکام کے بقول اب وہاں کسی اور کے موجود ہونے کا امکان نہیں۔

ترکی میں حادثے کا شکار ہونے والی کوئلے کی کان سے ہفتہ کو دو مزدوروں کی لاشیں نکالنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 301 ہو گئی ہے جب کہ عہدیداروں نے امدادی کارروائیوں کو سمیٹنے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیر توانائی تانیر یلدیز کا کہنا ہے کہ اب کان میں کسی اور کے موجود ہونے کا امکان نہیں ہے لہذا امدادی کارروائیوں کو بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کان کے اندر ایک اور جگہ پھر سے آگ بھڑک اٹھی تھی جسے امدادی کارکنوں نے بجھا دیا۔

وزیر توانائی کے بقول کوئلے کی کان میں کام کرنے والوں کے خاندانوں کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اب کان میں کوئی بھی موجود نہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی ختم کرنے سے پہلے امدادی کارکن ایک بار پھر کان کا مکمل جائزہ لیں گے۔

بدھ کو ترکی کے مغربی علاقے سوما میں کوئلے کی کان میں دھماکے اور آتشزدگی سے پیش آنے والے واقعے پر ملک بھر میں حکومت کے خلاف مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے حادثے سے نمٹنے اور امدادی کاموں میں مبینہ سستی کا مظاہرہ کیا۔

مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور حکام نے کم ازکم چالیس افراد کو حراست میں بھی لیا۔

وزیراعظم رجب طیب اردوان کو ترکی کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کرنے پر تو سراہا جاتا رہا ہے لیکن ان کی حکومت میں شامل عہدیداروں پر حالیہ مہینوں میں لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ان کی ساکھ پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے ہو گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق حکومت مخالف تازہ مظاہروں میں پولیس کا احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال اردوان کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ترکی میں مزدور یونینز کی طرف سے کوئلے کی کان کے حادثے کی ذمہ داری اس کان کے مالکان پر عائد کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے بقول کان میں حفاظتی انتظامات نا کافی تھے اور اس پر کوئی خاص توجہ بھی نہیں دی گئی۔

صنعتی شعبے میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے والے سرکاری محکمے کے عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے رواں برس متعدد بار اس کان کا جائزہ لیا اور وہاں کسی بھی طرح کی بے ضابطگی دیکھنے میں نہیں آئی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق کوئلے کی کان کے اندر ایک میل گہرائی میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی سے دھماکا ہوا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
XS
SM
MD
LG