رسائی کے لنکس

ترکی میں مذہبی تعلیم کے منفرد اسکول

  • ڈوریان جونز

ترکی میں مذہبی تعلیم کے منفرد اسکول

ترکی میں مذہبی تعلیم کے منفرد اسکول

ترکی میں مذہبی تعلیم دینے والے اسکول افغانستان اور پاکستان کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں ۔ ان اسکولوں کو امام حاتپ Imam-Hatip کہا جاتا ہے اور یہ اپنے نصاب اور تدریس کے طریقوں کے لحاظ سے پاکستان اور افغانستان کے مدرسوں سے بالکل مختلف ہیں۔

استنبول کے فاتح امام حاتپ میں پڑھنے والے بچے ہفتے میں 20 گھنٹے قرآن شریف کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ 14 سالہ عیمر کین کی طرح بہت سے بچے تعلیم ختم کرنے کےبعد امام بننا چاہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں’’میں یہاں امام بننے آیا ہوں۔ یہ میری اور میرے گھرانے کی آرزو ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے بہت محنت کرنی ہوگی۔ زندگی میں میرا مقصد یہی ہے کہ میں یونیورسٹی میں دین کی تعلیم حاصل کروں اور امام بن جاؤں۔‘‘

کین کے استادعظمی دوگان کہتے ہیں کہ امام حاتپ اسکول ترکی میں سیکولر ریپبلک قائم ہونے کے بعد1923 میں پرائیویٹ مذہبی اسکولوں کی جگہ شروع کیے گئے تھے ۔ ان کا بنیادی مقصد اماموں کی تعلیم و تربیت ہے۔ ترکی میں ایسے دیندار لوگوں کی تعداد کافی ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچے مذہبی تعلیم بھی حاصل کریں۔ اب پورے ملک میں ساڑھے چار سو سے زیادہ ایسے اسکول قائم ہیں جن میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

دوگان کہتے ہیں کہ امام حاتپ اسکولوں میں اسلام کی تبلیغ نہیں کی جاتی بلکہ مذہب کی اصل روح کو سمجھایا جاتا ہے۔یہاں مذہبی گھرانوں کے بچے آتے ہیں جو راسخ العقید ہ مسلمان ہوتے ہیں۔ہم ان کے علم اور قرآن کی سمجھ بوجھ میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم انہیں دوسرے مذاہب، مثلاً عیسائیت اور بدھ مت کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔اس کلاس کے خاتمے کے بعد بچے ریاضی کی کلاس میں جاتے ہیں۔ اس اسکول میں کچھ وقت مذہبی علوم کو دیا جاتا ہے اور باقی وقت میں سائنس اور سوشل اسٹڈیز کی تعلیم دی جاتی ہے۔

اسکول کے سربراہ کاوت اریدم کہتے ہیں مذہبی اور سائنسی علوم کی تعلیم نہ صرف ملک کی مذہبی آبادی کے لیے پُر کشش ہے بلکہ معاشرےکے لیے بھی مفید ہے۔ ’’اس اسکول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بچوں میں سائنس، عمرانیات، مذہب اور ثقافتوں کی لگن پیدا ہو تا کہ بچے معاشرے کا جزو بن جائیں۔ اس کے علاوہ ہم بچوں کو مذہب کی تعلیم اس طرح دیتے ہیں کہ ان میں رواداری کا جذبہ پیدا ہو اور وہ تشدد اور مذہب کی غلط توجیہ سے دور رہیں۔‘‘

پاکستانی مدرسہ

پاکستانی مدرسہ

سائنس اور مذہب کا یہ امتزاج افغانستان اور پاکستان دونوں کے لیے پُر کشش ہے ۔ اس سال کے شروع میں افغانستان کے وزیرِ تعلیم فاروق وردک نے کہا تھا کہ افغانستان میں اسکولوں کے نصاب کے لیے اس قسم کے اسکول نمونہ بن سکتے ہیں۔ ترقیاتی امداد کے طور پر ترکی نے افغانستان میں تعلیمی پروگرام شروع کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا ہے ۔

استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کی پروفیسر استار گوزےدین کہتی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان میں مدرسوں کو طالبان اور القاعدہ کی تربیت گاہ بننے سے روکنے کے لیے امام حاتپ قسم کے اسکول اہم کردار ادا کر سکتےہیں۔ اس طرح مذہبی تعلیم حکومت کے تحت آ جائے گی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا ہے’’اگر کورس متوازن انداز سے ترتیب دیا جائے تو پاکستان اور افغانستان جیسے مسلمان ملکوں کے لیے ثانوی تعلیم بہت مفید ہو جائے گی۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسے مرکزی ادارے ہوں جو ایک جگہ نصاب کو ترتیب دیں تو انتہا پسندی جیسے بہت سے مسائل سے نجات مِل جائے گی ۔‘‘

لیکن اگر ایک طرف امام حاتپس جیسے اسکولوں کو مسلمان ملکوں میں انتہا پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کا طریقہ سمجھا جا رہا ہے تو دوسری طرف سیکیولر ترکی میں بعض لوگ اسے سیکولر ازم کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ۔ناقدین کہتے ہیں کہ اس طرح ملک میں دو متوازی نظامِ تعلیم قائم ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں تفریق پیدا ہو تی ہے ۔

لیکن ایسے اسکولوں کے حامی کہتے ہیں کہ اسکولوں پر بہت سخت کنٹرول قائم ہیں جن میں سیکولر ازم پر زور دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ اورمنتظمین کو باقاعدگی سے مذہبی اور غیر مذہبی اسکولوں میں باری باری بھیجا جاتا ہے تا کہ توازن قائم رہے۔

ترک حکام اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ان اسکولوں میں کئی ملکوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔ یوں ترکی کی تازہ ترین برآمدات میں امام حاتپ اسکولوں کا اضافہ ممکن ہو گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG