رسائی کے لنکس

ترکی اس سے قبل بھی شام کی چار سالہ خانہ جنگی کے دوران اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شام کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

ترکی نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایک طیارہ مار گرایا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہین کہ یہ جہاز کس ملک کا تھا۔

فوج نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جمعہ کو شام کی سرحد کے قریب اس طیارے کو ترک حدود میں داخل ہرنے پر تین بار متنبہ کیا گیا جسے خاطر میں نہ لانے پر ترک لڑاکا طیاروں نے اسے مار گرایا۔

ترک نشریاتی ادارے (این ٹی وی) کے مطابق مار گرایا جانے والا جہاز ایک ڈرون (بغیر ہوا باز کا جاسوس طیارہ) تھا جسے شام کی سرحد کے قریب تین کلومیٹر ترک علاقے میں ہدف بنایا گیا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ روسی طیارہ تھا۔ لیکن روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے تمام طیارے بحفاظت شام میں اپنے اڈے پر واپس آچکے ہیں اور ترکی کی طرف سے طیارہ تباہ کرنے کے اعلان کے بعد اس کے ڈرونز بھی "منصوبے کے مطابق" سرگرم ہیں۔

ترکی اس سے قبل بھی شام کی چار سالہ خانہ جنگی کے دوران اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شام کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

حال ہی میں ترکی نے دو مرتبہ یہ شکایت کی تھی کہ روس کے لڑاکا طیاروں نے اس کی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

ماسکو نے دو ہفتے قبل ہی شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت سے برسرپیکار عناصر کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG