رسائی کے لنکس

ترک صدر کے مختصر قیام کے دوران، ترکی اور صومالیہ نے پولیس کی تربیت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں باہمی سمجھوتوں پر دستخط کیے

ترک صدر رجب طیب اردوان نے جمعے کے روز صومالیہ کے دارالحکومت کا دورہ کیا، جو ایک غیر ملکی سربراہ حکومت کی جانب سے جنگ زدہ ملک کے دورے کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

حالانکہ بدھ کو الشباب نے موغادیشو کے ایبسڈر ہوٹل پر حملہ کیا تھا، اردوان نے طے پروگرام کے تحت دورہ کیا۔ حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار حملہ آور بھی شامل تھے۔

صدر کے مختصر قیام کے دوران، ترکی اور صومالیہ نے پولیس کی تربیت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں باہمی سمجھوتوں پر دستخط کیے۔

اردوان نے ترکی کے نئے سفارت خانے کا بھی افتتاح کیا۔ دنیا بھر میں ترکی کا یہ سب سے بڑا سفارت خانہ ہے، جہاں سے بحیرہٴ ہند کا منظر دکھائی دیتا ہے جہاں سے عبدالعزیز مسجد کا نظارہ کیا جاسکتا ہے، جسے 10 صدیاں قبل عثمانی خلافت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔

اگست، سنہ 2011 کے بعد سے اردوان کا موغادیشو کا یہ تیسرا دورہ ہے، جب دنیا کو قحط سالی کی خطرناک صورت حال سے آگاہی ملی، جس کے باعث اُس وقت جنوبی صومالیہ کا زیادہ تر خطہ مشکل میں پھنسا ہوا تھا۔

ترک حکام کے مطابق، سنہ 2011سے ترکی نے جنگ زدہ صومالیہ کو کروڑوں ڈالر کے عطیات دیے ہیں۔
گذشتہ سال، ترک کابینہ نے صومالیہ کو اس سال کی بجٹ میں اعانت کے طور پر دو کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد منظور کی تھی۔

اُن کے صومالیہ میں قیام سے قبل، اردوان نے یوگنڈا اور کینیا کا دورہ کیا۔

XS
SM
MD
LG