رسائی کے لنکس

ان خبروں میں سعودی عرب میں شیعہ رہنما کی سزائے موت پر عمل درآمد کو  صدر طیب اردوان کے دورہ ریاض سے جوڑا جا رہا ہے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے کیا تھا۔

ترکی نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے ان سے ایرانی میڈیا میں صدر رجب طیب اردوان کے بارے میں آنے والی خبروں پر احتجاج کرتے ہوئے، انہیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان خبروں میں سعودی عرب میں شیعہ رہنما کی سزائے موت پر عمل درآمد کو صدر طیب اردوان کے دورہ ریاض سے جوڑا جا رہا ہے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے کیا تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم ایران کے سرکار ی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جن میں سعود ی عرب میں موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کو ہمارے صدر کے حالیہ دورہ سعودی عرب سے جوڑا جا رہا ہے"۔

ترکی نے ان تبصروں کی بھی مذمت کی ہے جن میں بیان کے مطابق اشاعتوں کا مقصد صدر کے بارے میں ایرانی عوام میں منفی تاثر ابھارنا ہے۔

سعودی شیعہ رہنما شیخ نمرالنمر کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد مشرق وسطیٰ کے شیعہ اکثریتی آبادی والے ملک ایران اور قدامت پسند سنی ملک سعودی عرب کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

شیخ نمر النمر سعودی شاہی خاندان کے ایک بڑے ناقد تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ سعودی عرب کی شیعہ آبادی کو اور زیادہ حقوق دیئے جائیں۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے بیان میں ایرانی سفیر پر زور دیا گیا ہے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملے کسی طور بھی قبول نہیں ہیں اور ان کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر اردوان نے دو روز کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس دوران انہوں نے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بات چیت کی جس کا محور شامی بحران اور دونوں ملکو ں کے درمیان توانائی کے شعبوں میں تعاون تھا۔

XS
SM
MD
LG