رسائی کے لنکس

آرمینیا ئی باشندوں کی نسل کشی کے الزام سے ترکی کا انکار


آرمینیا ئی باشندوں کی نسل کشی کے الزام سے ترکی کا انکار

آرمینیا ئی باشندوں کی نسل کشی کے الزام سے ترکی کا انکار

ایک ترک وزیر نے منگل کے روز اپنے ملک کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سلطنت عثمانیہ نے آرمینیا ئی باشندوں کی نسل کشی نہیں کی۔ اس سے قبل پچھلے ہفتے انہوں نے سوئس حکام کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پراسی طرح کاتبصرہ کیا تھا۔

ترکی کے یورپی یونین امور سے متعلق وزیر ایگرمن باگس نے پچھلے ہفتے زیورخ کے اپنے دورے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1915ء کے اس واقعہ کو نسل کشی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اور متعلقہ حکام سے کہیں کہ وہ مجھے گرفتار کرلیں۔

سوئٹزرلینڈ کے نسلی تفریق سے متعلق قانون کے تحت اس طرح کے تبصرے غیر قانونی ہیں اور تقریباً ایک سوسال قبل ترکوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی ماننے سے انکار کرنا ایک جرم ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے حکام نے آرمینیائی نژاد سوئس باشندوں کی جانب سے اس سے متعلق شکایات کے بعد تحقیقات شروع کردی ہیں۔

جس پر اپنے ردعمل کے اظہار کے لیے ترکی نے انقرہ میں سوئس سفیر کو طلب کیا تھا۔

باگس نے منگل کے روز نامہ نگاروں سے کہا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ سوئس حکام اس انکار پر انہیں حراست میں نہیں لے سکتے۔

ترک وزیر کو امکانی طورپر مقدمات کے خلاف سفارتی تحفظ حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG