رسائی کے لنکس

شام کے حزبِ مخالف کے سینکڑوں رہنماؤں کا ترکی میں اجلاس


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

شام کی حزبِ مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں رہنما اور اہم شخصیات ہفتہ کے روز ترکی میں جمع ہو رہے ہیں جہاں وہ شام کے صدر بشار الاسد کی اقتدار سے بے دخلی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرینگے۔

ترکی کے شہر استنبول میں 'نیشنل سالویشن کانفرنس' کے نام سے ہفتہ کو ہونے والے اس اجلاس میں شامی حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والی 350 کے لگ بھگ شخصیات شریک ہو رہی ہیں۔ حزبِ مخالف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دمشق میں طے شدہ ایسا ہی ایک اجلاس گزشتہ روز سرکاری فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کی گئی کاروائی کے پیشِ نظر منسوخ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت مخالف مظاہروں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے کم از کم 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جمعہ کو ہونے والے یہ مظاہرے شام میں جاری حکومت مخالف تحریک کے دوران اب تک کے چند سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک تھے۔

سرکاری افواج کی فائرنگ سے کم از کم 23 مظاہرین دارالحکومت دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں ہلاک ہوئے جبکہ جنوبی شہر دارعا، مرکزی شہر ہومز اور شمال مغربی صوبہ اِدلب میں بھی فورسز کی فائرنگ سے کئی مظاہرین ہلاک ہوئے۔

ملک بھر میں ہونے والے ان مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی جنہوں نے شام کے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق مخالفین کے خلاف کوئی رعایت نہ برتنے کی سرکاری پالیسی برقرار رکھتے ہوئے پولیس نے کئی مظاہروں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور براہِ راست فائرنگ کی۔

ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے کیونکہ شامی حکومت غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کشیدگی والے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔

تازہ مظاہرہ سیاسی کارکنوں کی جانب سے کی گئی اس اپیل کے جواب میں ہوئے تھے جس میں عوام سے جمہوریت پسند مظاہروں پر حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیے گئے سینکڑوں افراد کی رہائی کیلیے احتجاج کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

دریں اثناء شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'صنعاء' نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے کئی شہروں میں حکومت کی حمایت میں ریلیاں منعقد کی گئی ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد اپنے 11 سالہ اقتدار کے خلاف گزشتہ چار ماہ سے جاری حزبِ مخالف کی احتجاجی تحریک کو کچلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ صدر الاسد نے ملک میں سیاسی اصلاحات کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے تاہم حزب ِمخالف کی جماعتوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کے خلاف جاری کاروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG