رسائی کے لنکس

شام میں ترکی کا ممکنہ کردار زیر بحث

  • ڈوریان جونز

ترک وزیراعظم

ترک وزیراعظم

شام کی قیادت کے خلاف ترکی کا موقف سخت ہوتا جا رہا ہے اور اس کے مغربی اتحادی یہ آس لگائے ہوئے ہیں کہ شام کے صدر بشار الاسد کو ہٹانے کے لیے ترکی مزید کوششیں کرے گا۔ ترکی میں آج کل یہ بحث جاری ہے کہ کیا شام پر بین الاقوامی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے نتیجے میں فوجی اقدام کیا جائے گا اور اس معاملے میں ترکی کو کیا رول ادا کرنا چاہیئے۔

منگل کے روز، ترکی کی پارلیمینٹ کے سامنے اپنے ہفتہ وار خطاب میں وزیرِ اعظم رجب طیب اردوان نے کہا کہ گذشتہ اختتامِ ہفتہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر دباؤ ڈالنے کی قرارداد منظور نہ ہونا، عالمی ادارے کی بہت بڑی ناکامی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ترکی ایک متبادل منصوبہ پیش کرنے کو تیار ہے، چاہے روس اور چین اسے بھی ویٹو کیوں نہ کر دیں۔ انھوں نے کہا کہ ترکی مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک نئے اقدام کی تیاری میں مدد دے رہا ہے جس کے تحت شام کی حکومت کے مخالفین کی حمایت کی جائے گی ۔ اس ہفتے ترکی کے وزیرِ خارجہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچنے والے ہیں۔

مسٹر اردوان نے اس منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں، لیکن شام کی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کا جس طرح خون بہایا ہے، اس کی مذمت کرنے والوں میں ترکی سب پر سبقت لے گیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمسایہ ملک شام، ترکی کا قریبی اتحادی تھا۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Selcuk Unal کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ میں حالیہ ناکامی کے باوجود، ترکی کی کوشش یہی ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے شام میں ہونے والی خونریزی کو ختم کیا جائے، چاہے اس کے لیے اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے کے باہر رہ کر سفارتی کوششیں کیوں نہ کرنی پڑیں۔

’’ہمیں دوسرے عرب ملکوں سمیت دوسرے اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر دوسرے اقدامات پر غور کرنا چاہیئے۔ اگر شام کی طرف سے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کا اب تک کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم دوسرے اقدامات پر توجہ نہ دیں۔‘‘

ترکی نے شام کی حزبِ اختلاف کے کئی لیڈروں کو پناہ دے رکھی ہے ۔ ان میں شام کی مسلح افواج سے منحرف ہونے والوں پر مشتمل ملیشیا، فری سیرین آرمی کے کچھ فوجی بھی شامل ہیں۔ میڈیا کی بعض رپورٹوں کے مطابق، انقرہ باغیوں کو اسلحہ دے رہا ہے یا انہیں عرب ملکوں کی طرف سے ملنے والا اسلحہ فراہم کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ ترکی کی وزارتِ خارجہ کے عہدے داروں نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔
ترک اخبار ملیت کے سفارتی نامہ نگارسمیع آدز کہتے ہیں کہ ترکی شام کے خلاف تنہا کارروائی کرنا نہیں چاہتا ۔

’’خارجہ پالیسی کے معاملے میں ترکی ہمیشہ کئی ملکوں کو ساتھ لے کر چلنے کا قائل ہے۔ لہٰذا اس قسم کے حالات میں، ترکی چاہتا ہے کہ وہ بین الااقوامی برادری کے ساتھ مل کر اقدام کرے۔‘‘

واشنگٹن اور لندن نے اس بحران کو حل کرنے میں، ترکی کی اہمیت کا حوالہ دیا ہے کیوں کہ شام کے ساتھ اس کی سرحد 800 کلو میٹر طویل ہے ۔ نیٹو میں ترکی کی فوج سب سے بڑی ہے، اور وہ شام کے اندر ایک بفر زون قائم کر سکتی ہے ۔
حکومت کی مخالف شام کی نیشنل کونسل بیرونی مداخلت پر زور دیتی رہی ہے جس میں ترکی بنیادی کردار ادا کرے گا ۔ لیکن وزارتِ خارجہ کے ترجمان Unal کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو ترکی کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہیئے۔’’فی الحال ہمارے ایجنڈے پر کسی قسم کا کوئی فوجی پراجیکٹ نہیں ہے ۔‘‘

تاہم، ترکی کی خارجہ پالیسی کے ماہرسولی اوزل کہتے ہیں کہ اگر شام میں صورت حال مزید خراب ہوتی ہے تو فوجی مداخلت ممکن ہے۔’’اگر خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے پر مجبور ہوں گے، تو اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں گے ۔ ایسی صورت میں ایک بفر زون کا خیال حقیقت بن سکتا ہے ۔‘‘

وزیرِ خارجہ احمد دعوت اوغلو نے حال ہی میں کہا کہ شام کے پناہ گزینوں کے لیے ترکی کے دروازے کھلے رہیں گے ۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو انہیں لوگوں کے گھروں میں قبول کر لیا جائے گا۔ ترکی کے بعض لوگوں نےاس پیشکش کو دمشق کے لیے انتباہ قرار دیا ہے ۔ جیسا کہ مسٹر اردوان نے کہا ہے کہ اگر شام میں حالات قابو سے باہر ہوئے، تو ترکی خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔

XS
SM
MD
LG