رسائی کے لنکس

ترک اور لبنانی مغویوں کی وطن واپسی


ترک ہواباز رہائی کے بعد استنبول پہنچے

ترک ہواباز رہائی کے بعد استنبول پہنچے

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داود اوغلو نے کہا کہ یہ رہائی ان کے ملک کے سفارتی اثرورسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔

لبنان سے بازیاب ہونے والے ترکی کے دو پائلٹ اور شام سے رہا ہونے والے نو لبنانی باشندے یرغمالیوں کی حوالگی کے ایک معاہدے کے تحت اپنے اپنے وطن پہنچ گئے۔

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان نے ملک کی فضائی کمپنی کے ہوابازوں کا استبنول پہنچنے پر استقبال کیا۔

قطر کے مصالحت کاروں نے مذاکرات کے ذریعے کے ان افراد کو رہائی دلوائی۔ ان لبنانی باشندوں کو گزشتہ سال مئی میں شام میں باغیوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔

یہ باشندے بیروت کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو ان کے اہل خانہ سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔

یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے جس میں شام کی حکومت حراستی مراکز سے بہت سے لوگوں کو چھوڑ رہی ہے۔

حزب مخالف کے ایک گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن راٹس کے مطابق حکومت نے حالیہ دنوں میں اس معاہدے کے تحت درجنوں قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ احمد داود اوغلو نے کہا کہ یہ رہائی ان کے ملک کے سفارتی اثرورسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔

’’ہمارے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ہونے والے اس عمل کی کامیابی سے ایک بار پھر خطے میں ترکی کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔‘‘

شام میں اڑھائی سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران اس طرح کے واقعات خطے پر مسلک کی بنیاد پر پڑنے والے اس کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔

ترکی اور اس جیسے دیگر سنی مسلم ممالک بشار الاسد کے خلاف سنیوں کی قیادت میں شروع ہونے والی تحریک کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ مسٹر اسد کو شیعہ ملک ایران اور لبنان کے شدت پسند گروپ حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے۔
XS
SM
MD
LG