رسائی کے لنکس

ترکی شامی باغیوں کو تربیت دے گا، امریکہ کا اعلان


فائل

فائل

ترکی شام میں براہِ راست فوجی مداخلت کے علاوہ بھی کئی طریقوں سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری مہم میں شریک ہوسکتا ہے: امریکی محکمۂ خارجہ

امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ترکی معتدل نظریات کے حامل شام کےباغی جنگجووں کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرنے کے مشن میں مدد دینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہاف نے جمعے کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکی اور ترک حکام کے درمیان جمعرات کو انقرہ میں ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے ہیں جس کے بعد منصوبے کی تفصیلات طے کرنے کے لیے امریکی محکمۂ دفاع کا ایک وفد آئندہ ہفتے ترکی جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ترکی شام میں براہِ راست فوجی مداخلت کے علاوہ بھی کئی طریقوں سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری مہم میں شریک ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کی پارلیمان کی جانب سے شام میں سرگرم شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت ملنے کے باوجود ترک حکومت اب تک سرحد پار کسی کارروائی سے گریز کرتی آئی ہے۔

شام اور عراق میں سرگرم دولتِ اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحاد کی تشکیل کے امریکی منصوبے کے سربراہ اور سابق امریکی جنرل جان ایلن اور ان کے نائب بریٹ مکگرک ترکی کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے گزشتہ روز انقرہ پہنچے تھے۔

دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں کی جانب سے ترکی کی سرحد سے متصل شام کے شہر کوبانی کے محاصرے اور مسلسل پیش قدمی کے بعد شدت پسند تنظیم کے خلاف جہاں امریکہ کے فضائی حملوں میں شدت آئی ہے وہیں امریکی حکام نے بین الاقوامی اتحاد کو وسعت دینے کے لیے سفارتی رابطے بھی تیز کردیے ہیں۔

ترکی سے قبل سعودی عرب بھی امریکہ کے تعاون سے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے ان باغی گروہوں کو تربیت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے جو معتدل نظریات کے حامل ہیں اور دولتِ اسلامیہ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

جمعے کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند کوبانی میں داخل ہوگئے ہیں اور شہر کا ایک تہائی علاقہ کرد رضاکاروں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے جو گزشتہ چار ہفتوں سے دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کرر رہے تھے۔

شدت پسندوں کے شہر میں داخلے کی خبریں نشر ہونے کے بعد اقوامِ متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ اگر کوبانی پر شدت پسندوں کا قبضہ ہوگیا تو وہاں ہزاروں شہریوں کے قتلِ عام کا خدشہ ہے۔

کرد اکثریت کے اس شہر اور اس کے گرد و نواح کی بیشتر آبادی پہلے ہی سرحد پار ترکی میں پناہ لے چکی ہے لیکن بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ شہر میں اب بھی ہزاروں لوگ محصور ہیں۔

جمعے کو پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے کوبانی کی صورتِ حال کو "گھمبیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں دستیاب اطلاعات کے مطابق کوبانی کی بیشتر آبادی گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ترکی میں پناہ گزین ہوچکی ہے اور شہر میں اب بہت کم لوگ باقی بچے ہیں۔

XS
SM
MD
LG