رسائی کے لنکس

ترکی میں فوجی لیڈروں کے خلاف مقدمہ

  • ڈورین جونز

فوجی بغاوت کا شکار ہونے والے لوگوں کی تصویریں عدالت کی عمارت کے باہر آویزاں تھیں جہاں 94 سالہ کینن ایورن اور ایئر فورس کے چیف تحسین شینکایا کے خلاف مقدموں کی کارروائی شروع ہوئی۔

1980ء میں جن فوجی لیڈروں نے ترکی میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا ان میں سے دو ابھی زندہ ہیں اور ان پر انقرہ میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ اس کیس کو ترکی میں جمہوریت کے لیے سنگِ میل اور فوج کی سیاست میں دخل دینے کی طویل روایت کا خاتمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دارالحکومت انقرہ میں عدالت کی عمارت کے باہر سینکڑوں مظاہرین جمع ہو گئے تھے۔ وہ ان دو بوڑھے جنرلوں پر مقدمے چلانے کی حمایت کر رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے مزید ایسے لوگوں پر مقدمے چلائے جائیں جنھوں نے فوجی بغاوت میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے اس مقدمے کا خیر مقدم کیا ہے جو قومی اتحاد کا منفرد مظاہرہ ہے۔ 32 سال پہلے ترکی میں جو ہلچل مچی تھی، اس کے بعد برسوں تک لوگوں کو اذیتیں اور پھانسیاں دی جاتی رہیں، اور لوگ غائب ہوتے رہے۔

بدھ کے روز فوجی بغاوت کا شکار ہونے والے لوگوں کی تصویریں عدالت کی عمارت کے باہر آویزاں تھیں جہاں 94 سالہ کینن ایورن اور ایئر فورس کے چیف تحسین شینکایا کے خلاف مقدموں کی کارروائی شروع ہوئی۔

ان دونوں پر آئین کی خلاف ورزی کے جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔ دونوں کی صحت خراب ہے اور وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

استنبول کی سڑکوں پر لوگ میں مقدمہ چلائے جانے کی حمایت موجود ایک شخص کہتے ہیں کہ یہ مقدمے علامتی طور پر اہم ہیں۔ ’’ان دونوں پر مقدمہ چلایا جانا تاریخی واقعہ ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔فوجی بغاوت کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔‘‘

عدالت کے باہر موجود ایک بھی خاتون مقدمہ چلائے جانے کی حامی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں ایورن اور شینکایا کے خلاف کیس اتنا مضبوط نہیں ہے کہ انہیں سزا ضرور ملے۔

’’یہ اچھا اقدام ہے کیوں انھوں نے جو کچھ کیا اس سے بہت سی زندگیاں تباہ ہو گئیں۔ لیکن میں یہ بھی کہوں گی کہ اس وقت کے حالات میں ایسا کرنا ضروری تھا۔ لہٰذا ہمیں فیصلہ جج پر چھوڑ دینا چاہیئے۔‘‘

جنرل ایورن ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ تھے جب انھوں نے 12 ستمبر کو اعلان کیا کہ فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ شروع میں انہیں عوامی حمایت حاصل تھی کیوں کہ ان کے اس اقدام سے برسوں کا سیاسی تشدد ختم ہو گیا تھا۔

لیکن بعد میں جو مظالم ہوئے وہ ترکی کی تاریخ پر سیاہ داغ ہیں۔ ساڑھے چھہ لاکھ افراد کو قید کر لیا گیا اور تقریباً ڈھائی لاکھ پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا ۔ 49 افراد کو پھانسی دے دی گئی ان میں ایک سترہ سالہ لڑکا بھی شامل تھا اور سینکڑوں دوسرے لوگ لا پتہ ہو گئے۔

تین سال کی فوجی حکومت کے دوران، ہزاروں قیدیوں کو اذیتیں دی گئیں اور انھی میں سے ایک ڈیفنی سینڈیلی اپنی رودات کچھ یوں سناتی ہیں۔

’’فوجی بغاوت کے بعد مجھے دو بار گرفتار کیا گیا۔ میں نے اپنا بیشتر وقت پوچھ گچھ کے مرکز میں صرف کیا جو در اصل اذیت رسانی کا مرکز تھا۔ پہلی بار میں وہاں ایک مہینے رہی اور پھر مجھے رہا کر دیا گیا، اور پھر پانچ مہینے بعد مجھے پھر گرفتار کر لیا گیا۔ اس بار میں نے ساڑھے تین مہینے اذیت رسانی کے اس مرکز میں گذارے۔‘‘

فوجی بغاوت کے لیڈروں کے خلاف جرائم کے مقدمے قائم کرنے کو ان کے مظالم کا شکار ہونے والوں کے لیے اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے، لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ اس مقدمے کا دائرۂ کار اور زیادہ وسیع ہونا چاہیئے تھا۔ امریکہ میں قائم ’ہیومین رائٹس واچ‘ نے مقدمہ چلائے جانے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اس بات پر تنقید کی ہے کہ الزامات میں صرف اس پہلو پر توجہ دی گئی ہے کہ کیا فوج کا حکومت پر قبضہ کرنا قانونی تھا۔

انسانی حقوق کے اس گروپ کی ترک نمائندہ ایما سنکلئیرویب کہتی ہیں کہ ’’ان جنرلوں پر انسانی حقوق کی شدید اور کھلم کھلا خلاف ورزی پر بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں، فوجی بغاوت کے بعد قید کیے ہوئے لوگوں کومسلسل اذیتیں دینے پر بھی مقدمہ چلایا جانا چاہیئے اور ان تمام لوگوں کو انصاف ملنا چاہیئے جنہیں گرفتار کیا گیا اور جن سے پوچھ گچھ کی گئی۔‘‘

تا ہم ترکی میں بہت سے لوگ اس مقدمے کو ملک میں جمہوریت کے لیے سنگ میل سمجھتے ہیں۔ اب سے کچھ دن پہلے تک اس قسم کے اقدام کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کیوں ترکی کے معاشرے میں فوج کو کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ایورن اور شینکایا کے خلاف فوجداری مقدمے قائم کرنا صرف آئین میں ترمیم اور جنرلوں پر قانون کے اطلاق سے استثنا ختم کرنے کے بعد ممکن ہوا۔

ترکی کی فوج ایک عرصے سے سیاست میں دخل دیتی رہی ہے۔ 1960 سے اب تک فوج نے چار حکومتوں کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ آخری بار 1997 میں ایسا ہوا تھا۔ وزیرِاعظم رجب طیب اردگان اور ان کی موجودہ حکومت نے جو گذشتہ عشرے سے اقتدار میں ہے فوج کو سیاست سے الگ ہونے اور بیرکوں میں واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے ۔

بہت سے جنرلوں پر آج کل موجودہ حکومت کے کے خلاف سازشیں کرنے کے الزام میں مقدمے چل رہے ہیں۔ اس تازہ ترین کیس سے نہ صرف ترکی کی تاریخ کا ایک تاریک ترین باب بند ہو گیا ہے بلکہ اسے جمہوریت کے لیے بھی ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG