رسائی کے لنکس

استنبول: مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی


تقسیم چوک

تقسیم چوک

اِس سے قبل،استنبول کے گورنر نے تقسیم چوک کی یادگار پر غازی پارک کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا کہ وہ اِسے مزید مظاہروں یا قبضے کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے

بلوے کی صورتِ حال سے نمٹنے پر مامور پولیس نے پیر کو استنبول میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے، تیز دھار پانی کا چھڑکاؤ کیا اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

مظاہرین استنبول پارک میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے، جو کئی ہفتوں تک وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے خلاف حکومت مخالف احتجاج کا مرکز بنا رہا۔

اِس سے قبل،استنبول کے گورنر حسین آنی مطلوع نے تقسیم چوک کے یادگار پر غازی پارک کے دوبارہ کھولے جانے کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا کہ وہ اِسے مزید مظاہروں یا قبضے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تین گھنٹے بعد، پولیس نےمظاہرین کے خلاف کارروائی کی، جو اُن کی ہدایت کی انحرافی کررہے تھے۔

قیصر نامی استنبول کے ایک باشندے نے بتایا کہ وہ اِس لیے یہاں آئے ہیں کہ اُنھوں نے سنا تھا کہ پارک دوبارہ کھل گیا ہے۔ ’لیکن، اب ہم یہ سن رہے ہیں کہ اِسے پھر سے بند کردیا گیا ہے۔ ہمیں یوں لگتا ہے جیسے گورنر ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں‘۔

غازی پارک کے گرد 15جون سے اہل کاروں کا پہرہ لگا ہوا ہے، ایسے میں جب بلوے سے نمٹنے پر مامور ترک پولیس نے ہفتوں تک جاری رہنے والے پُرتشدد احتجاج کے دوران ماحولیات سے وابستہ ہزاروں لوگوں کی طرف سےپارک پر قبضہ کرنے والوں کو باہر نکال دیا تھا۔ وہ علاقے سےبڑی تعداد میں درختوں کے کاٹے جانے اور تعمیر نو کے منصوبے کے خلاف احتجاج بلند کر رہے تھے۔

ملک بھر میں مسٹر اردگان کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی تھی، جب کہ ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ وہ ملک کو مطلق العنان طریقے سے چلا رہے ہیں۔

جون کے اواخر میں شورش میں کمی آگئی۔ تاہم، ہفتے کو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔
XS
SM
MD
LG