رسائی کے لنکس

ترک امریکہ حالیہ تعلقات کا ایک جائزہ

  • ڈوریان جونز

امریکہ کے اس فیصلے سے کہ وہ ترکی کی سالانہ فوجی مشقوں میں شرکت نہیں کرے گا ، نیٹو کے ان دونوں رکن ملکوں کے تعلقات کے بارے میں ، سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ ان تعلقات میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے بگڑتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ اس سال کے شروع میں ترکی نے ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

گذشتہ اختتام ہفتہ جب امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین ، ایڈمرل مائک ملن نے انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب، جنرل Isik Kosaner سے ملاقات کی، تو انھوں نے گذشتہ دو برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا مثبت انداز میں ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ‘‘یقیناً اس کےبعد سے اب تک بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عراق میں امریکہ کا جنگی مشن ختم ہو گیا ہے اور افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دونوں ایسے مشن ہیں، جن میں ترکی کی مدد بہت اہم رہی ہے’’ ۔

لیکن امریکہ عراق سے لڑاکا فوجی اور اسلحہ واپس لے جانے میں، ہمسایہ ملک ترکی کی سرزمین استعمال نہیں کرے گا، اگرچہ ترکی نے کہا ہےکہ اگر اس سے غیر جنگی عملے اور غیر فوجی گاڑیوں کو واپس لے جانے میں مدد کی درخواست کی گئی، تو وہ اس پر ہمدردی سے غور کرے گا۔

سفارتی نامہ نگار Semih Idiz کہتے ہیں کہ ترکی اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات برائے نام ہی باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ‘‘اب عالمی اسٹریٹیجک تعلق کی بات نہیں ہو رہی بلکہ ہر معاملے پر الگ الگ غور کیا جاتا ہے ۔ اسٹریٹیجک تعلقات کی صورت میں بعض باتیں فرض کر لی جاتی ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں دونوں میں سے کوئی بھی ملک کسی معاملے میں کوئی بات فرض نہیں کر سکتا’’۔

ترکی نے خارجہ پالیسی میں اپنے نقطہ ٔ نظر پر اصرار کرنے کی جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ امریکہ کے ان دونوں اتحادی ملکوں کے درمیان تعلقات غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کی حالتِ زار کے سوال پر خراب ہوئے ہیں۔ پھر جب غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ختم کرنے کی غرض سے آنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے اسرائیلی فورسز نے کارروائی کی اور نو ترک باشندے ہلاک کر دیے، تو کشیدگی عروج کو پہنچ گئی۔

ترک وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان نے اسرائیل کے خلاف بڑی سخت زبان استعمال کی اور اسرائیل پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔ ان چیزوں سے امریکہ میں ترکی کی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں سوال پیدا ہوئے ہیں۔ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی نئی پابندیوں کی قرار داد پر ترکی کے مخالفانہ ووٹ سے ان سوالات میں اضافہ ہوا ہے۔ ترکی نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں پر عمل کرے گا لیکن ان پابندیوں پر نہیں جو یورپی یونین یا امریکہ نے ایران کے خلاف عائد کی ہیں۔

گذشتہ مہینے ایک اعلیٰ سطح کا ترک وفد واشنگٹن آیا تھا تا کہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ اس وفد نے اہم امریکی قانون سازوں سے ملاقات کی، اور کہا کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان اچھے طویل المدت تعلقات اہم ہیں۔ سفیر Selim Yenel کہتے ہیں کہ تعلقات کی بحالی میں یہ دورہ کامیاب رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘‘آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنا بہت اچھا ہوا اور اس کی ضرورت بھی تھی۔ لیکن ہم نے ان شعبوں کی اہمیت پر بھی زور دیا جو عام طور سے شہ سرخیوں میں نظر نہیں آتیں یعنی ہمارے تعلقات کے وہ مثبت پہلو جن کے بارے میں ہمارے درمیان مکمل اتفاق ہے، جیسے عراق، افغانستان، پاکستان اور بلقان کا علاقہ۔ ان تمام ملکوں کے حوالے سے ہم مسلسل سب کے ساتھ ِ مل کر کام کر رہے ہیں’’۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان میں ترکی کا رول خاص طور سے بہت اہم ہے۔ ترک فوجیں افغان سپاہیوں اور پولیس کے عملے کو تربیت دینے میں پیش پیش ہیں۔ اس بات کی علامتی اہمیت بھی ہے کیوں کہ ترکی نیٹو کا واحد رکن ملک ہے جو مسلمان ہے۔ لیکن سفیرYenel کہتے ہیں کہ مسائل اب بھی باقی ہیں، خاص طور سے امریکی کانگریس کے ساتھ جو ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے کے سوال پر غور کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘‘اس وقت ہمارے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے اور ترکی نے جو اقدام کیا ہے، اس کے بارے میں ان کا رویہ منفی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ان سے بات چیت کریں اور اصل صورتِ حال کی وضاحت کریں، تو ہو سکتا ہےکہ کانگریس کو مثبت فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔ لیکن فی الحال صورتِ حال مثبت نہیں ہے’’۔

ترکی کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار کرد باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے ضروری ہیں۔ گذشتہ چند مہینوں میں کرد باغیوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ان میں 100 سے زیادہ ترک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

کالم نگار Idiz کہتے ہیں کہ اگر کانگریس نے ہتھیاروں کی فروخت کو مسترد کر دیا ، تو اس سے دو طرفہ تعلقات پر بڑے گہرے اثرات پڑیں گے ۔ اس سے ترکی میں امریکہ مخالف جذبات کو ہوا ملے گی اور اس کا جو رد عمل ہوگا ، اس میں سفارتکاری بھی موثر نہیں ہوگی۔

ترکی میں ایک سال سے بھی کم عرصے میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لیے رائے عامہ کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ اس دوران، توقع ہے کہ ترکی کو ایران کے بارے میں کچھ مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے اور اس سلسلے میں یورپی یونین اور امریکہ کا دباؤ بڑھتا رہے گا۔

XS
SM
MD
LG