رسائی کے لنکس

استنبول: امریکی ملاحوں پر حملہ، فرد جرم عائد


فائل

فائل

جمعرات کو حملہ آوروں کے خلاف عائد کیے گئے اِن الزامات میں احتجاج سے متعلق مروجہ قوانین کی شدید خلاف ورزی، عزت پر حرف آنے اور زخمی کرنے کی کوشش کی دفعات شامل ہیں

ترکی میں اُن 13 پُرجوش ترک قوم پرستوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جِن پر گذشتہ ماہ استنبول میں امریکی بحریہ کے تین ملاحوں پر حملے کا الزام ہے۔

حملہ آوروں کے خلاف جمعرات کو عائد کیے گئے اِن الزامات میں احتجاج سے متعلق مروجہ قوانین کی شدید خلاف ورزی، عزت پر حرف آنے اور زخمی کرنے کی کوشش کی دفعات شامل ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ استغاثہ کی کوشش ہوگی کہ حملہ آوروں کو، جو ’ترکش یوتھ یونین‘ کے ارکان ہیں، 10 برس قید کی سزا دی جائے۔

فرد جرم میں امریکی ملاحوں کی شہادت کو شامل کیا گیا ہے، جنھوں نے واقع کے بعد پولیس کو شکایت کی رپورٹ درج کرائی تھی۔

یہ واقعہ میزائل شکن ’یو ایس ایس راس‘ کے ملاحوں کے ساتھ استنبول میں اُس وقت پیش آیا، جب وہ جہاز سے اتر کر شہر میں ٹہل رہے تھے۔

بعدازاں، اِن پُرجوش قوم پرستوں نے ملاحوں پر سرخ رنگ بھرے غبارے پھینکے، اُن کے سروں کو بوریوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی،اُنھیں قاتل کہا اور اُن کے خلاف ’ینکی گو ہوم‘ کی نعرے بازی کی۔

ملاح محفوظ رہے اور بخیریت جہاز میں واپس پہنچے۔

امریکہ اور ترکی، دونوں نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

تنظیم تُرک نوجوانان کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک وڈیو میں، اُس کے ارکان کی طرف سے ملاحوں پر کیے گئے اس حملے کو دکھایا گیا ہے۔ ملاح اپنی وردیوں میں ملبوس تھے۔

XS
SM
MD
LG