رسائی کے لنکس

ترکی : شام میں کرد جنگجوؤں کو مسلح کرنے کا امریکی فیصلہ قبول نہیں


کرد جنگجوؤں کا ایک گروپ۔ فائل فوٹو

شام کے کرد گروپ وائی پی جی کے بارے میں بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ داعش کے خلاف لڑائی میں ایک موثر قوت ثابت ہوا ہے۔ جب کہ انقرہ اسے پی کے کے کا اتحادی سمجھتا ہے جو کئی عشروں سے ترک ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ترکی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں داعش کے خلاف لڑنے والی کرد فورس وائی پی جی کو ہتھیار فراہم کرنے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں ہے۔

ترقی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے لندن کے دورےپر روانہ ہونے سے قبل کہا ہےکہ امریکہ کو معلوم ہے کہ شام کا یہ کرد گروپ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

شام کے کرد گروپ وائی پی جی کے بارے میں بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ داعش کے خلاف لڑائی میں ایک موثر قوت ثابت ہوا ہے۔ جب کہ انقرہ اسے پی کے کے کا اتحادی سمجھتا ہے جو کئی عشروں سے ترک ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیںاور جسے واشنگٹن ایک دہشت گرد گروپ تسلیم کرتا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے کئی مہینوں کی لائبنگ اور دوطرفہ تعلقات متاثر ہونے کی وارننگز کی بازگشت کے بعد سامنے آیا۔ تاہم صدر اردوان نے منگل کے روز اس امریکی اعلان کے بعد کچھ نہیں کہا۔

ایک سابق سینیر ترک سفارت کار ایڈن سیلسن نے، جو واشنگٹن اور عراق میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں، کہا ہے کہ اس معاملے پر اعلی ترک قیادت، بالخصوص صدر اردوان پہلے جو کچھ کہتےرہے ہیں، اس کے مقابلے میں موجودہ ردعمل بہت معمولی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح اعلی ترک قیادت کی جانب سے واشنگٹن کے دورے سے قبل اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں خلل نہیں ڈالے گا۔

صدر اردوان ، صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لیے اگلے ہفتے واشنگٹن آ رہے ہیں ۔ سفارت کار کا کہنا ہے کہ وہائٹ ہاؤس میں فوٹو بنوانے کا یہ اتنا بڑا موقع ہے کہ انقرہ اسے ضائع نہیں کرنا چاہے گا۔

پچھلے مہینے کے متنازع ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد، جس کے نتیجے میں انہیں بڑے پیمانے پر اختیارات مل جائیں گے، اپنے بین الاقوامی دورے کے سلسلے میں صدر اردوان کے لیے واشنگٹن بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

کرد جنگجوؤں کے معاملے پر دو اتحادیوں کےدرمیان جاری تنازع کے پس منظر میں واشنگٹن میں کئی ماہرین کا کہنا تھا کہ واشنگٹن آخرکار وائی پی جی کو مسلح کرے گا۔

گلوبل سورس پارٹنرز کی ایک تجزیہ کار اتیلا یسیلادا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کردوں کو ترجیج اس لیے نہیں دیتا کہ وہ انہیں پسند ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رقہ کے دروازوں پر موجود 50 ہزار بہادر جنگجو ہیں۔اور انہیں لڑنے کے لیے بھاری ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بدھ کے روز کہا کہ ہم شمالی سرحد پر ترکی کی سیکیورٹی کی مدد کے لیے ان کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔

پینٹاگان کی جانب سے منگل کےروز جاری ہونے والے بیان میں وائی پی جی کو ہتھیاروں کی فراہمی اور اس کے استعمال کی گہری نگرانی پر زور دیا گیا ہے ۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ شام میں داعش کے ایک اہم گڑھ رقہ کا قبضہ واپس لینے کے لیے کرد فورسز کو مسلح کرنا ضروری ہے۔

پینٹاگان نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے تحفظات سے آگاہ ہے اور ترکی شام اور عراق کے اندر داعش کے خلاف امریکی قیادت کی جنگ میں ایک اہم اتحادی ہے اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لیے اتحادی فورسز کے طیارے ترکی سے پرواز کرتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ امریکہ اس تناؤ کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG