رسائی کے لنکس

پاکستان فتح اللہ گولن کے اداروں پر نظر رکھے: ترک سفیر


فتح اللہ گولن (فائل فوٹو)
فتح اللہ گولن (فائل فوٹو)

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا افضل کا کہنا تھا کہ صرف الزامات کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان میں ترکی کے سفیر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد حکومت اپنے ہاں قائم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے اداروں پر نظر رکھے گی اور اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ترک سفیر صادق بابر گرگن نے یہ بات اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔

ترکی میں صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کا الزام ترک حکام نے امریکہ میں مقیم ترک نژاد مذہبی رہنما فتح اللہ گولن پر عائد کیا تھا۔

لگ بھگ ایک دہائی سے زائد عرصے سے امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے فتح اللہ گولن کا کہنا ہے کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش میں اُن کا کوئی کردار نہیں اور اُنھوں نے اس حوالے سے ترک حکومت کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

فتح اللہ گولن کی تحریک 'حزمت' کہلاتی ہے اور اسی کے تحت پاکستان میں بھی لگ بھگ 20 تعلیمی ادارے قائم ہیں۔

اسلام آباد میں ترک سفیر صادق بابر نے کہا کہ ترکی نے اپنے دوست ممالک سے کہا ہے کہ وہ فتح گولن سے وابستہ اداروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق سفیر صادق بابر نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان اس معاملے سمیت دیگر اُمور پر قریبی رابطے ہیں تاہم اُنھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

ترک سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکی کا ہمیشہ ایک اچھا دوست رہا ہے اور اُن کے بقول تمام ہی شعبوں میں دنوں ممالک کا قریبی تعاون رہا ہے۔

ترکی کے سفیر کے بیان پر پاکستان کی حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ترکی کی حکومت کے لیے فتح اللہ گولن کا معاملہ حساس نوعیت کا ہے لیکن اُن کے بقول کوئی بھی فیصلہ ملک کے مفاد کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔

’’پاکستان کی حکومت یقیناً ان باتوں کا جائزہ لے گی اور اگر ہم محسوس کریں گے کہ وہ پاکستان میں کوئی غیر قانونی سرگرمی کر رہے ہیں تو ہم اس بات کا نوٹس ضرور لیں گے لیکن جو بھی ہم فیصلہ کریں گے وہ پاکستان میں کے مفاد میں ہو گا۔‘‘

رانا افضل کا کہنا تھا کہ صرف الزامات کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں۔

’’پاکستان کی خارجہ پالیسی اور یہ چیزیں بڑی واضح ہیں کہ ہم اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی کر سکتے ہیں۔۔۔ اُنھوں نے پاکستان میں جو ادارے بنائے ہیں وہ اجازت لے کر ہی بنائے ہیں اگر اُنھوں نے اُس اجازت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہو گی تو اُسی صورت میں ہی اُن کے خلاف کارروائی ہو گی۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے ترکی میں بغاوت کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح ترک عوام نے اس کا مقابلہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔

ترکی میں ’بغاوت‘ کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد حکومت نے اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی شروع کر رکھی ہے اور فوج کے اعلیٰ افسران سمیت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ترک حکومت نے ملک میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

بین الاقوامی برادری کی طرف سے ترکی سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کارروائی کے دوران انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے۔

XS
SM
MD
LG