رسائی کے لنکس

ترکی کا شامی کرد ملیشیا کے خلاف امریکہ سے غیر مشروط حمایت کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انقرہ میں سکیورٹی عہدیداروں سے پانچ گھنٹوں کی ملاقات کے بعد احمد داؤد اغلو نے کہا کہ ترکی کو یقین ہے کہ 'وائے پی جی' جسے داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی حمایت حاصل ہے بدھ کو انقرہ میں ہوئے بم حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی کرد ملیشیا وائے پی جی کے خلاف ان کی حکومت کی غیر مشروط حمایت کرے۔

انقرہ میں سکیورٹی عہدیداروں سے پانچ گھنٹوں کی ملاقات کے بعد احمد داؤد اغلو نے کہا کہ ترکی کو یقین ہے کہ 'وائے پی جی' جسے داعش کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی حمایت حاصل ہے بدھ کو انقرہ میں ہوئے بم حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہے، جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔

ترکی کے ایک کرد عسکریت پسند گروپ کردستان فریڈم فیلکن 'ٹی اے کے' نے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں انقرہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

داؤد اغلو نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ٹی اے کے' کی 'وائے پی جی' کی اس بم حملے سے کسی بھی تعلق کی "بین الاقوامی قانونی جواز" سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش ہے جس کا ہدف ترکی کے دارالحکومت میں فوجی یونٹیں تھیں۔

وائے پی جی یا پیپلز پروٹیکشن یونٹس، شامی کرد ڈیموکرٹیک یونین پارٹی کا ہی ایک مسلح دھڑا ہے۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ وہ 'دہشت گرد' ہیں تاہم امریکہ اس سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ نا تو ترکی کے الزام کی تصدیق کر سکتے ہیں اور نا ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے اس ملیشیا کا ہاتھ ہے۔

صدر براک اوباما نے جمعہ کو ترکی کے صدر طیب اردوان سے ٹیلی فون پر 80 منٹ تک گفتگو کی جس میں انہوں نے شام کے تنازع کے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا اور اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔

تاہم دوسری طرف امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ شام میں ان گروپوں کی حمایت جاری رکھے گا جو داعش کے انتہا پسندوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG