رسائی کے لنکس

کردوں کو اعزاز پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی: ترکی


فائل

فائل

دائود اولو نے متنبہ کیا کہ اگر کُرد قریبی ہوائی اڈے کو خالی نہیں کرتے تو ترک افواج اسے’ناقابل استعمال’ بنا دیں گے

ترک وزیر اعظم احمد دائوداوگلو نے پیر کے دِن کہا ہے کہ اُن کا ملک شامی کرد لڑاکوں کوعزاز کے قصبے پر قبضے کی اجازت نہیں دے گا، جو علاقہ اُس کی سرحد سے چند ہی کلومیٹر دور واقع ہے۔

ترکی نے حالیہ دِنوں امریکہ کے حامی کُرد 'پیپلزپراٹیکشن یونٹ فائٹرز (وائی پی جی)' پر کئی باربھاری دہانےسے گولہ باری کی ہے، جب کہ دائوداوگلو نے متنبہ کیا کہ اگر کُرد قریبی ہوائی اڈےکوخالی نہیں کرتے تو ترک افواج اسے’ناقابل استعمال’ بنا دیں گے۔

روس نے، جو گذشتہ ستمبرسے شامی فوجوں کی پیش پنابی کرتے ہوئے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، پیر کے روز ترکی کی کارروائی کو‘جارحانہ اقدام’ قرار دیا۔

شام نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے ہفتے کو صوبہ حلب کی جانب بَری فوجیں روانہ کی ہیں۔ ترکی کے وزیر دفاع نے اِن الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو سرحد پار تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

شام کے جاری تنازعے میں حلب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جہاں ترکی امریکی اتحاد کی حمایت یافتہ کرد جنگجوئوں کو ہدف بنا رہا ہے، جب کہ کرد روس کی پشت پناہی والی شامی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں

جولڑائی کئی مخالف گروہوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے جاری ہے۔

یہ جنگ ایسے وقت ہو رہی ہے جب عالمی طاقتین اسی ہفتے سے مخاصمانہ کارروائیوں کوعارضی طور پر رکوانے کے سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے کوشان ہیں۔

یورپی یونین کی بیرون ملک پالیسی سربراہ، فرڈریکا مغیرنی نے پیر کے روز کہا ہے کہ شام کی موجودہ صورت حال اس سمجھوتے سے مطابقت نہیں کھاتی جس کے تحت تشدد کو روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔


XS
SM
MD
LG