رسائی کے لنکس

ترکی: حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں


ترکی کے شہر استنبول میں جمعے کو ہونے والے مظاہرے اور اس پر پولیس کی شیلنگ کا ایک منظر
ترکی کے شہر استنبول میں جمعے کو ہونے والے مظاہرے اور اس پر پولیس کی شیلنگ کا ایک منظر

ترکی میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے شرکا اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ترکی میں حکومت کی جانب سے شراب کی فروخت پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے شرکا اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

جمعے کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے منسلک ہزاروں مظاہرین استنبول کے مرکزی چوک پر جمع ہوئے جب کہ دارالحکومت انقرہ اور ساحلی شہر ازمیر میں بھی حزبِ اختلاف کےکارکنوں نے ریلیاں نکالیں۔

استنبول اور انقرہ میں پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیے جس سے کئی مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق لاٹھی چارج سے ایک رکنِ پارلیمان اور ایک صحافی سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ آنسو گیس کی شیلنگ سے سانس کے عارضے میں مبتلا ہونے والے سیکڑوں افراد کو اسپتالوں میں طبی امداد دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے "پرامن مظاہرین" کے خلاف ترک پولیس کی جانب سے طاقت کے بہیمانہ استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے جب کہ ترکی کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے نے بھی صورتِ حال پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

ترک وزیرِ داخلہ معمر گلر نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس کی جانب سے ان کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کی شکایت کی تحقیقات کی جائیں گی۔

خیال رہے کہ ترک پارلیمان نے گزشتہ ہفتے ملک میں شراب کی فروخت محدود کرنے اور اس کی تشہیر پر پابندی کا قانون منظور کیا تھا۔

نئے قانون کے تحت رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک شراب کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ شراب بنانے اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے کوئی تقریب 'اسپانسر' کرنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG