رسائی کے لنکس

ترک فوج کی شام میں داعش کے مضبوط ٹھکانے پر چڑھائی: اردوان


رجب طیب اردوان نے اتوار کے روز بحرین جانے سے قبل بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے لڑاکوں نے الباب خالی کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر کئی ہفتوں سے حملہ جاری تھا

ترکی کے صدر نے کہا ہے کہ ملک کی فوجیں اور اتحادی شامی حزب مخالف کے لڑاکے الباب کے شمالی قصبے میں داخل ہو چکی ہیں، جو داعش کے شدت پسند گروپ کا مضبوط ٹھکانہ ہے۔

رجب طیب اردوان نے اتوار کے روز بحرین جانے سے قبل بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے لڑاکوں نے الباب خالی کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر کئی ہفتوں سے حملہ جاری تھا۔

شام میں انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی برطانیہ میں قائم تنظیم، 'سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس'، جو شام کی لڑائی کے اعداد اکٹھے کرتی ہے، بتایا ہے کہ قصبے کے شمالی، مغربی اور جنوبی مضافات میں شدید لڑائی چھِڑی ہوئی ہے، جب کہ ترکی کے فضائی حملے اور بڑے دہانے کی گولہ باری جاری ہے۔ تنظیم نے اس بات کی تصدیق نہیں کی آیا قصبے کے وسطی علاقے میں ترک فوجیں موجود ہیں۔

ترکی کی حمایت یافتہ فوجوں نے الباب پر قبضے کے حصول کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اس سے قبل کہ حکومتِ شام کی افواج پہنچ جائیں۔

الباب ترک سرحد سے جنوب کی جانب 40 کلومیٹر (25 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG