رسائی کے لنکس

عراق میں ترک فوج پر داعش کا حملہ ناکام


عراق کے شمالی علاقے ضحوک میں قائم ترکی کی ایک فوجی چوکی کا منظر

عراق کے شمالی علاقے ضحوک میں قائم ترکی کی ایک فوجی چوکی کا منظر

انقرہ میں فوجی حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ عراقی فوجی اڈے پر تعینات ترک اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں کم از کم 17 حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے پر مامور ترک فوجی دستے نے خود پر ہونے والا داعش کا ایک حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق عراق کے شمالی صوبے نینوا میں واقع بشیقہ کی فوجی چھاؤنی پر داعش کے جنگجووں نے جمعرات کی شب حملہ کیا تھا ۔

انقرہ میں فوجی حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ عراقی فوجی اڈے پر تعینات ترک اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں کم از کم 17 حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔

عراقی فوج کے مذکورہ اڈے پر لگ بھگ ڈیڑھ سو ترک فوجی تعینات ہیں جو نزدیک ہی واقع شہر موصل کا قبضہ داعش سے چھڑانے کے مشن میں شریک عراق کے فوجی دستوں کو تربیت دینے پر مامور ہیں۔

بشیقہ کے فوجی اڈے پر داعش کے جنگجووں نے گزشتہ ماہ بھی حملہ کیا تھا جس میں چار ترک فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

اس علاقے میں عراقی کی مرکزی حکومت کا زیادہ اثر و رسوخ نہیں البتہ بغداد علاقے میں ترک فوج کی موجودگی پر سخت معترض رہا ہے اور اسے اپنی خود مختاری کے خلاف قرار دیتا ہے۔

ترکی نے گزشتہ ماہ بشیقہ کے فوجی اڈے پر اپنے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے پر سفارتی تنازع سنگین صورت اختیار کرگیا تھا۔

تنازع کے سنگین ہونے کے بعد ترک حکومت نے تسلیم کیا تھا کہ عراقی اڈے پر ترک فوجی دستوں کی تعیناتی کے معاملے پر بغداد اور انقرہ کے درمیان "بعض غلط فہمیاں" پیدا ہوگئی ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے ترکی نے بشیقہ میں تعینات اپنے فوجیوں کی تعداد کم کردی تھی۔

لیکن عراقی حکومت بشیقہ کے فوجی اڈے سے ترک فوجیوں کے مکمل انخلا کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس نے ترک فوجیوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

ترکی کی حکومت کا موقف ہے کہ اس کے فوجی اہلکار شمالی عراق میں داعش کےخلاف جاری آپریشن کا اہم حصہ ہیں اور ان کی وہاں موجودگی خود عراق اور ترکی کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ ترکی فوجی اہلکاروں کی بشیقہ میں تعیناتی کا تنازع سنگین ہونے کے بعد امریکہ نے بھی ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ عراق کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور اور عراقی اڈے سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے لیے اقدامات کرے۔

XS
SM
MD
LG