رسائی کے لنکس

ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں ضلعی گورنر کی رہائش گاہ کے سامنے ایک بم پھٹنے سے گورنر سمیت کم ازکم تین افراد زخمی ہو گئے ۔

یہ دھماکہ صوبہ ماردین کے قصبے دیرک میں ہوا جو شام کی سرحد سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

ترک کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں ہوا جو باغی گروپ كردستان ورکرز پارٹی کی جانب سے داغا گیا تھا۔ میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز اس حملے کے ذمہ دار دهشت گردوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

كردستان ورکرز پارٹی جنوب مشرقی ترکی میں اکثر و بیشتر دھماکے کرتی رہتی ہے جہاں وہ گذشتہ تین عشروں سے اپنے مطالبوں کے لیے شورش برپا کیے ہوئے ہے۔

ترک حکومت اور باغی کردوں کے درمیان تین سال پہلے فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن ایک سال پہلے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے كردستان ورکرز پارٹی کے خلاف کارروائی شروع جانے سے یہ معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

ترکی، امریکہ اور یورپی یونین كردستان ورکرز پارٹی کو ایک دهشت گرد گروپ قرار دے چکے ہیں۔

1984 سے شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG