رسائی کے لنکس

غیور اختر نے شہرہ آفاق ڈرامے ’سونا چاندی‘ میں ایک معمولی ڈرائیور کا کردار اس خوبی سے ادا کیا کہ وہ سدا کے لیے امر ہو گیا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور اور جانے پہچانے اداکار غیور اختر جمعہ کی دوپہر لاہور میں انتقال کر گئے۔ ہائی بلڈ پریشر ان کی موت کا بہانہ بن گیا۔ وہ جمعرات کو رات گئے لاہور کے سروسز اسپتال میں داخل ہوئے تھے جبکہ گذشتہ کئی برسوں سے وہ فالج کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔

اپنی اداکاری کے عوض انہیں ’پرائیڈ آف پرفارمنس “ سے نوازا جاچکا تھا۔ وہ بہت باہمت انسان بھی تھے اور اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فالج کے باوجود وہ ریڈیو کو اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔

سن 1970ء کا دور اور غیور اختر کا فنی کیئرئر
پاکستان میں سن ستر سے 90 تک کی دہائی سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے عروج کا سنہری دور ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب رات آٹھ بجے ڈرامہ نشر ہوتا تو سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا تھا۔ شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں ان ڈراموں کو پذیرائی حاصل نہ ہو۔ ان ڈراموں کی سب سے بڑی خاصیت ان میں نظر آتا عام آدمی کا وجود تھا جو آج سینکڑوں ٹی وی چینلز کی موجودگی کے باوجود کہیں کھویا ہوا ہے۔

اس عام آدمی کے مختلف کرداروں کو اس دور کا ہر فنکار بخوبی نبھانا جانتا تھا۔ غیور اختر بھی انہی فنکاروں میں سے ایک تھے جنہوں نے شہرہ آفاق ڈرامے ’سونا چاندی‘ میں ایک معمولی ڈرائیور کا کردار اس خوبی سے ادا کیا کہ وہ سدا کے لئے امر ہو گیا۔

’خواجہ اینڈ سنز‘، ’افسر بے کار خاص‘، ’فری ہٹ‘ اور ’گھر آیا میرا پردیسی‘ غیور اختر کے لازوال ڈرامے ہیں۔ ان ڈراموں میں ان کے کردار، ان کی کمال فن رکھنے والی اداکاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

غیور نے ٹی وی کے علاوہ فلم ’ڈائریکٹ حوالدار‘ میں بھی اداکاری کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے اسٹیج پر بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور ریڈیو پر بھی سداکاری کی۔
XS
SM
MD
LG