رسائی کے لنکس

جھڑپوں میں ایک ترک فوجی اور 20 کرد جنگجو ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گزشتہ ہفتے ترکی نے شمالی شام میں داعش کے خلاف کارروائی اور 'پی کے کے' سے منسلک کرد گروپوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے اپنے ٹینک اور فوجی اہلکار سرحد پار بھیجے تھے۔

ترکی کے ایک سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ایک ترک فوجی اہلکار ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی نے جمعہ کو بتایا کہ حکاری صوبے میں ہونے والی جھڑپوں میں 20 کرد جنگجو بھی ہلاک ہو ئے جبکہ اس دوران ترکی کی فورسز نے اس علاقے میں فضائی حملے بھی کیے۔

ترک سکیورٹی فورسز اور کردستان ورکرز پارٹی یعنی 'پی کے کے' کے درمیان دو سال تک جاری رہنے والے امن عمل کے خاتمے کے بعد تشدد کے واقعات شروع ہو گئے تھے۔

اناطولیہ خبررساں ادارے کے مطابق اس کے بعد سے اب تک ان واقعات میں ترک سکیورٹی فورسز کے چھ سو سے زائد اہلکار اور 'پی کے کے' کے ہزاروں عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق اداروں کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

گزشتہ ہفتے ترکی نے شمالی شام میں داعش کے خلاف کارروائی اور 'پی کے کے' سے منسلک کرد گروپوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے اپنے ٹینک اور فوجی اہلکار سرحد پار بھیجے تھے۔

امریکہ نے ترکی سے کہا تھا کہ وہ کرد جنگجوؤں کے خلاف برسرپیکار ہونے کی بجائے اپنی توجہ داعش کے خلاف لڑائی پر مرکوز رکھے

تاہم ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شمالی شام میں اُس وقت تک اپنی فوجی کارروائیاں بند نہیں کرے گا جب تک تمام (سکیورٹی) خطرات کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔

ترکی نے گزشتہ ہفتے داعش کے عسکریت پسندوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ کرد جنجگوؤں کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ ترکی کی حکومت کا ماننا ہے کہ ان کرد جنگجوؤں کے ترکی کے اندر سرگرم کردستان ورکرز پارٹی 'پی کے کے'کے عسکریت پسندوں سے روابط ہیں۔

شمالی شام میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد مغربی ممالک کی طرف سے اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ترکی امریکہ کی حلیف کرد فورسز 'کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس' ( وائی پی جی) کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

امریکہ ’وائی پی جی‘ کو داعش کے خلاف لڑائی میں اپنا سب سے زیادہ موثر اتحادی قرار دیتا ہے جب کہ ترکی کا مطالبہ ہے کہ ’وائی پی جی‘ اس سرحدی علاقے سے نکل جائے جو داعش کے عسکریت پسندوں سے واگزار کروایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG