رسائی کے لنکس

شام: حمص میں دو بم دھماکے، 32 افراد ہلاک


فائل

فائل

پیر کو شام میں مزید تین ایسے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا بھی آغاز ہوگیا ہے جو اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے رواں سال ستمبر میں باغی گروہوں اور شامی حکومت کے درمیان طے پائے تھے۔

شام کے شہر حمص میں پیر کو ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوگئے ہیں۔

دونوں دھماکے شہر کے وسطی ضلعے الزہرہ میں یکے بعد دیگرے ہوئے جن میں سے پہلا کار میں نصب بم پھٹنے جب کہ دوسرا خود کش حملے کا نتیجہ تھا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سنا' نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں دھماکے کار بم حملے تھے جن میں صرف چھ افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے ہیں۔

لیکن شام میں تشدد کی معلومات جمع کرنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سرکاری بیان سے کہیں زیادہ ہے۔

رواں ماہ اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے طے پانے والے ایک سمجھوتے کے تحت حمص میں باغیوں نے اپنے زیرِ قبضہ آخری علاقہ بھی حکومت کے حوالے کردیا تھا جس کے بعد سے شہر میں ہونے والے یہ دوسرا بڑا بم حملہ ہے۔

اس سے قبل 12 دسمبر کو الزہرہ ہی کے علاقے میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دھماکے کار سوار خود کش حملہ آوروں نے کیے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے حمص میں طے پانے والے جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت لگ بھگ 700 باغی جنگجو اور ان کے اہلِ خانہ شہر میں باغیوں کے زیرِ قبضہ آخری ضلعے الوائر سے نکل گئے تھے۔ باغیوں کے انخلا کے بعد سے اب پورا شہر صدر بشار الاسد کی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔

سمجھوتے پر عمل درآمد اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کیا گیا تھا جس نے شام کے کئی اور علاقوں میں بھی باغیوں اور حکومت کے درمیان اسی نوعیت کے جنگ بندی کے سمجھوتے کرائے ہیں۔

Homs, Zabadani, Foua, and Kfarya, Syria

Homs, Zabadani, Foua, and Kfarya, Syria

ان سمجھوتوں کے تحت شام کی سرکاری فوج باغیوں کو ان کے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کا محفوظ راستہ فراہم کرتی ہے جب کہ باغی ان علاقوں کی طرف چلے جاتے ہیں جہاں ان کا قبضہ مستحکم ہے۔

اسی طرح باغیوں کے محاصرے میں موجود شامی حکومت کےزیرِ انتظام علاقوں میں پھنسے عام شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کو بھی حکومت کے کنٹرول میں واقع دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کا محفوظ راستہ فراہم کیا جاتا ہے۔

پیر کو شام میں مزید تین ایسے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے جو اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے رواں سال ستمبر میں باغی گروہوں اور شامی حکومت کے درمیان طے پائے تھے۔

سمجھوتے کے تحت شام اور لبنان کی سرحد پر واقع باغیوں کے آخری مضبوط گڑھ زبدانی نامی قصبے سے 120 سے زائد جنگجو اور زخمی پیر کو لبنان چلے گئے ہیں۔

سمجھوتے کے مطابق ان باغیوں کو لبنان کے دارالحکومت بیروت سے بذریعہ جہاز ترکی منتقل کیا جائے گا جہاں سے وہ سرحد پار کرکے دوبارہ شام کے ان علاقوں میں چلے جائیں گے جو باغیوں کے زیرِ انتظام ہیں۔

اسی نوعیت کے دو مختلف سمجھوتوں کے تحت شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع حکومت کے زیرِ انتظام دو دیہات سے پیر کو لگ بھگ 335 عام شہری اور سرکاری اہلکاروں کا انخلا شروع ہوگیا ہے جس کے بعد یہ دونوں دیہات باغیوں کے حوالے کردیے جائیں گے۔

ان دونوں شیعہ اکثریتی دیہات کے رہائشی اور وہاں پھنسے سرکاری اہلکار پہلے ترکی جائیں گے جہاں سے انہیں بیروت اور پھر دمشق منتقل کردیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG