رسائی کے لنکس

’ہیڈونومیٹر ڈاٹ آرگ‘ ہر روز ٹوئٹر پر بھیجے گئے لاکھوں پیغامات وصول کرکے اِن کا تجزیہ کرتا ہے، جسے اِس منصوبے کے شریک خالق، پیٹر ڈاڈز ’جذباتی درجہٴحرارت‘ کا نام دیتے ہیں

ورمونٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں اور’مِترے‘ نامی تجزیاتی ادارے سے وابستہ ماہرین نےمسرت کے جذبےکے معیار کی پیمائش کا ایک نظام وضع کیا ہے، جسے اب وہ خوشی خوشی دنیا کے ساتھ بانٹ رہے ہیں۔

’ہیڈونومیٹر ڈاٹ آرگ‘ ہر روز ٹوئٹر پر بھیجے گئے لاکھوں پیغامات وصول کرکے اِن کا تجزیہ کرتا ہے، جسے اِس منصوبے کے شریک خالق، پیٹر ڈاڈز ’جذباتی درجہٴ حرارت‘ کا نام دیتے ہیں۔

رضاکاروں نے مسرت کی سطح کا تعین ایک سے نو کے اسکیل پر تقریباً 10،000الفاظ کےانتخاب سے کیا ہے۔

مثلاً ’خوشی‘ کے لفظ کو 8.3کی شرح کا اسکور حاصل ہوا، جب کہ ’جیل‘ کے لفظ کو 1.76 کا اسکور ملا۔ اِن ٹویٹس کو جمع کرکے اور اُن کی شرح نکال کر اِن الفاظ کا کھوج لگایا گیا۔ اِس نظام کے ذریعےدن بھر کے لیے مسرت کی شرح کا درجہ سامنے آتا ہے۔

پندرہ اپریل کو جس روز بوسٹن کے میراتھون ریس پر بم حملہ ہوا، دنیا بھر میں دھماکے، ہلاکت اور زخم لگنے کے الفاظ پر مبنی ٹوئٹز سامنے آئے۔ اور، ہیڈو میٹر سے پتا چلا کہ مسرت کے لفظ کے استعمال میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔ تقریباً پانچ برس قبل جب سائنس دانوں نے پہلی بار پیمائش کا یہ نظام وضع کیا، یہ ایک اندوہناک ترین دِن تھا۔

جب سے انگریزی زبان کا یہ پراجیکٹ شروع ہوا ہے، رکارڈ ہونے والے سارے خوش ترین دن 25دسمبر کو سنہ عیسوی کیلنڈر کے مطابق، کرس مس ڈے پر پڑے ہیں، جب کہ اس اعتبار سے اِن مسرت بھرے دِنوں میں سب سے زیادہ خوشی کا دِن 25دسمبر 2008ء کا تھا۔

اس منصوبے کے شریک چیرمین، کِرس ڈین فرتھ کا کہنا ہے کہ رپورٹر، پالسی ساز، تعلیم داں، اور کوئی بھی اب سائٹ پر آسکتا ہے اور اہم تقریبات کے بارے میں رائے کے اظہار سے متعلق پیغامات کےتبادلے کا مطالعہ کر سکتا ہے۔

یہ سائٹ انگریزی زبان کے ٹویٹز کا شمار کرتا ہے۔ تاہم بعد ازاں، یہ مختلف ذرائع کو ملحوظ خاطر رکھے گا مثلاً ’گوگل ٹرینڈر‘، ’نیوز میڈیا‘ اور ’بلاگز‘ کو بھی شمار کرسکے گا اور 12 زبانوں میں ڈیٹا کو تلاش کر سکے گا۔ بعد میں یہ نتائج ہر گھنٹے کی بنیاد پر، اور بالآخر ہر منٹ کےوقفے سے سامنے آسکیں گے۔
XS
SM
MD
LG