رسائی کے لنکس

ٹوئٹر پر خواتین کے لیے دھمکی آمیز پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ دھمکی آمیز پیغامات اب تک برطانوی ممبر آف پارلیمنٹ، سماجی کارکن اور مشہور صحافی خواتین کو ایک گمنام ٹوئٹر اکاونٹ سے موصول ہوئے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پران دنوں برطانوی خواتین کو ہراساں کرنے اور دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ دھمکی آمیز پیغامات اب تک برطانوی ممبرآف پارلیمنٹ، سماجی کارکن اور مشہور صحافی خواتین کو ایک گمنام ٹوئٹر اکاونٹ رکھنے والے شخص کی جانب سے موصول ہوئے ہیں، جن میں انھیں جان سے مارنے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

مائکرو بلاگنگ سائٹ پر گذشتہ ہفتے مشرقی لندن کی ایک رکن پارلیمان 'اسٹیلا کریسی' اورخواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن 'کیرولینا کریا ڈوپیریز' کو ٹوئٹرپر ریپ کا دھمکی آمیز پیغام بھیجا گیا دونوں خواتین نے اس معاملے سے پولیس کو آگاہ کیا تھا جس کے نتیجے میں برطانوی پولیس نے دو نوجوانوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔

لیکن گذشتہ جمعرات کو ایک بار پھرسے ٹوئٹرکے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے کسی گمنام شخص کی جانب سے تین خواتین صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی۔ اس بار یہ دھمکیاں برطانوی اخبار 'گارڈین' کی صحافی 'ہیڈلی فریمین' اور روزنامہ 'انڈیپینڈنٹ' کی قلمکار 'گریس ڈینٹ' کے علاوہ برطانیہ میں 'ٹائم میگزین' کی ایڈیٹر 'کیتھرین مئیر' کو دی گئیں۔

ان دھمکی آمیز پیغامات کا مضمون بالکل ایک جیسا ہے جس میں خواتین صحافیوں کے گھروں کے باہر ٹائم بم نصب کرنے کی اطلاع دی گئی تھی جس کے پھٹنے کا وقت رات 10 بجکر 47 منٹ بتایا گیا تھا۔

دو روز قبل، یعنی اتوار کے روز، ٹوئٹر پر دی جانے والی دھمکیوں کا سلسلہ ایک بار پھرشروع ہوا۔ اس بار یہ دھمکی 'کیمبرج یونیورسٹی' کی تاریخ کی پروفیسر اورٹی وی میزبان'میری بیئرڈ' کو ملی جس کا متن بھی وہی تھا جو دیگر خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ گمنام شخص نے ٹوئٹس میں کہا ہے کہ ان کے گھر کے باہر بم نصب ہے جو رات گیارہ بجے سے پہلے انھیں اور ان کے خاندان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردے گا۔

اٹھاون سالہ پروفیسر میری نے مقامی ٹی وی سے بات کرت ہوئے بتایا کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکی 24 گھنٹے کے اندر کئی بار دی گئی جس کی شکایت انھوں نے ہر بار ٹوئٹس کرکے کی۔ جبکہ، انھوں نے دھمکی آمیز پیغام کے خلاف پولیس میں جا کررپورٹ بھی درج کرائی ہے۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ ،'یہ حرکت خوفناک ہے اسے روکنا ہوگا۔ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس دھمکی سے ڈر محسوس نہیں ہوا لیکن یہ لگتا ہے کہ کوئی مجھے ہراساں کرنا چاہتا ہے۔‘

صحافی فریمین کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے کام کی وجہ سے نہیں بلکہ خاتون ہونے کی وجہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، جب ایک ائرپورٹ پر بم کی دھمکی دینا غیر قانونی عمل ہے تو مجھے دی جانے والی بم کی دھمکی کو بھی غیر قانونی سمجھا جانا چاہیئے۔

خواتین کو سوشل ویب سائٹ پرہراساں کرنے پربرطانیہ میں مختلف طبقہ فکر کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک ویب سائٹ پرپٹیشن ڈالی گئی جس میں ٹوئٹر ویب سائٹ کے مالکان سے مطالبہ کیا گیا کہ غیر مہذبانہ الفاظ اورروئیے کی شکایت کے لیے ٹوئٹر پر شکایت جمع کرانے کا ایک بٹن لگایا جائے۔ اس آن لائن پٹیشن پر اب تک ایک لاکھ پچیس ہزار افراد نے دستخط کئے ہیں۔

ٹوئٹر کی جانب سے غیرمہذب اور توہین آمیز روئیے کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنے ویب سائٹ کے قوانین کی تجدید کی ہے۔ ٹوئٹر کی جانب سے اس طرح کی شکایات سے نبٹنے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کئیے ہیں جو ان شکایات پر فوری کاروائی کر سکیں۔

ٹوئٹرانتطامیہ کی جانب سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ انتطامیہ صارفین کے لیےٹوئٹر کوایک محفوظ مقام بنانا چاہتی ہے اور ٹوئٹر کے قوانین میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا، اس قسم کی خرافات میں نہ الجھا جائے۔

نئے قوانین کے مطابق ٹوئٹر آئندہ ماہ سے ہر قسم کے پلیٹ فارم اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر ہر ایک ٹویٹ کے اندرایک غیرمہذبانہ روئیے کے خلاف شکایت کا بٹن متعارف کروا رہا ہے جبکہ یہ سہولت ایپل کمپنی کا موبائل فون استعمال کرنے والوں کو ٹوئٹر ایپ پر پہلے سے ہی دستیاب ہے۔

برطانیہ میں ٹوئٹر کے جنرل مینجر'ٹونی وانگ' نے اپنے ٹوئٹس میں کہا کہ ، 'میں ذاتی طور پر ان تمام خواتین سے معافی مانگتا ہوں جنہیں ٹوئٹر پر غیر مہذبانہ روئیے کا سامنا کرنا پڑا یہ ناجائز رویہ ناقابل قبول ہے جس کی نہ توحقیقی دنیا میں اور نہ ہی ٹوئٹر پر کوئی جگہ ہے۔'

برطانیہ میں ٹوئٹر پر مجرمانہ نوعیت کی ٹوئٹس کو روکنے لے لیے موثر اقدامات کرنے کے لیے زور ڈالا جارہا ہے اور اس سلسلے میں اتوار کےروز برطانوی حلقوں کی جانب سے ٹوئٹرپر چوبیس گھنٹے کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG