رسائی کے لنکس

’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اتوار کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکی انٹیلی جنس کے ایک اعلیٰ اہل کار نے بتایا ہے کہ رسائی کی یہ سہولت اس لیے ختم کی گئی ہے چونکہ ٹوئٹر کو تشویش تھی کہ اس سے یہ تاثر عام ابھرے گا کہ وہ انٹیلی جنس کے اداروں کے سات زیادہ دوستانہ رویہ برتتا ہے

ٹوئٹر نے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی اُس ڈیٹا تک رسائی بند کردی ہے جو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں معاون ثابت ہو رہا تھا۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اتوار کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکی انٹیلی جنس کے ایک اعلیٰ اہل کار نے بتایا ہے کہ رسائی کی یہ سہولت اس لیے ختم کی گئی ہے چونکہ ٹوئٹر کو تشویش تھی کہ اس سے یہ تاثر عام ابھرے گا کہ وہ انٹیلی جنس کے اداروں کے سات زیادہ دوستانہ رویہ برتتا ہے۔

اس رپورٹ سے قبل ’ڈیٹامائنر‘ نامی ’ریئل ٹائم ڈسکوری کمپنی‘ نے نجی طور پر انٹیلی جنس اداروں کو بتایا کہ ٹوئٹر اس بات کا خواہاں ہے کہ ڈیٹامائنر خفیہ اداروں کو سہولت کی فراہم بند کردے۔

ڈیٹامائنر کی جانب سے فراہم کردہ سہولت کے مطابق، روزانہ اُن رویوں کے طرز پر نظر رکھتی تھی جو ٹوئٹر کے لاکھوں پیغامات سے عیاں ہوتے تھے۔ کمپنی کی ویب سائٹ نے کہا ہے کہ ڈیٹامئنر ٹوئٹر اور دیگر پبلک ذرائع سے ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ کی ترسیل سے حاصل شدہ قابل اقدام اشاروں پر نگاہ رکھتی تھی۔

ڈیٹامائنز نے، جس کے پانچ فی صد حصص ٹوئٹر کی ملکیت ہیں، پیرس کے دہشت گرد حملوں کے بعد نومبر میں امریکی حکام کو متوجہ کیا تھا۔ ڈیٹامائنر نے داعش کے شدت پسند گروپ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے علاوہ، برازیل کے سیاسی بحران اور دیگر دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں فوری ’ریئل ٹائم‘ معلومات بھی فراہم کی تھی۔

ٹوئٹر امریکہ سے تعلق رکھنے والا ٹیکنالوجی کا دوسرا ادارہ ہے جس نے انٹیلی جنس کے وفاقی اداروں کو دہشت گردی سے لڑائی کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل، اِسی سال ’ایپل‘ نے بھی ایسا ہی عمل کیا تھا، جب کہ امریکی ’فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن‘ نے ایپل کے آئی فون کے ایک سیٹ کے حصار کو توڑنے کے لیے ایک تیسرے ادارے کو 10 لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔ یہ موبائل ٹیلی فون سیٹ کیلی فورنیا کے شہر، سان برنارڈینو سے تعلق رکھنے والے مشتبہ دہشت گرد کا تھا، جس نے دسمبر میں 14 افراد کو قتل کیا تھا۔




XS
SM
MD
LG