رسائی کے لنکس

پہلے حملے میں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی جنوبی شہر کسماؤ میں افریقن یونین کے امن فورس کے اس تربیتی مرکز سے ٹکرا دی جہاں کینیا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

صومالیہ میں دو مختلف حملوں میں 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور عہدیداروں کے مطابق یہ حملے مشتبہ طور پر الشباب کے باغیوں نے کیے ہیں۔

پہلے حملے میں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی جنوبی شہر کسماؤ میں افریقن یونین امن فورس کے اس تربیتی مرکز سے ٹکرا دی جہاں کینیا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

صومالی عہدیداروں کے مطابق فوجی اڈہ کسماؤ یونیورسٹی کے اندر واقع ہے جہاں فوجیوں کو انتہا پسند گروپ کے خلاف لڑنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اندولس میں قائم اپنے ریڈیو پر الشباب گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

صومالی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کرنل محمد حسن نے کہا کہ اس حملے میں صرف 14 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسپتال منتقل کیے گیے کئی اہلکار شدید زخمی حالت میں ہیں"۔

صومالیہ میں تعینات امن دستے نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ اس حملے میں دو عسکریت پسند ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے سکیورٹی حکام تفتیش کر رہے ہیں۔

پولیس عہدیدار عبداللہ اسوبل کے مطابق دوسرا حملہ دارالحکومت موغادیشو میں ہوا جس میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کار بم دھماکا پولیس اسٹیشن کے قریب واقع اس آبادی کے قریب ہوا جہاں نقل مکانی کرنے والے افراد رہتے ہیں۔

موغادیشو میں ہونے والے حملے کی فوری طور پر کسی نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اگرچہ یہ حملہ بھی ان حملوں سے مماثلت رکھتا ہے جو الشباب کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔

اگرچہ اس عسکریت پسند گروہ کو اس کی کئی محفوظ پناہ گاہوں سے نکال دیا گیا ہے تاہم اب بھی یہ دارالحکومت موغادیشو اور ملک کے دوسرے حصوں میں مہلک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG