رسائی کے لنکس

خودسوزی کرنے والے دونوں نوجوانوں کی عمریں 17 اور 18 سال بتائی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے علاقے تبت میں دو مزید نوجوانوں نے بطورِ احتجاج خود سوزی کرلی ہے۔

برطانیہ میں قائم تبتی باشندوں کی نمائندہ تنظیم 'فری تبت' نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خودسوزی کے دونوں واقعات چین کے علاقے نگابا میں منگل کی شب پیش آئے۔

تنظیم کے مطابق خودسوزی کرنے والے نوجوانوں کی شناخت 17 سالہ رنچین اور 18 سالہ سونم دھرگی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ بیان کےمطابق دونوں نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

'فری تبت' کے ڈائریکٹر اسٹیفنی بریگڈن نے بیان میں کہا ہے کہ خودسوزی کے حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی باشندوں کی جانب سے تبت پر چین کے اقتدار کے خلاف ہونے والے اس منفرد احتجاج کا سلسلہ 2013ء میں بھی جاری رہے گا۔

تبتی باشندے چینی حکومت پر اپنی ثقافت اور مذہب کو نقصان پہنچانے اور ان کے علاقے کی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔

علاقے میں چینی کاروائیوں کے خلاف عوامی مقامات پر خودسوزیوں کا یہ سلسلہ 2009ء میں شروع ہوا تھا جس میں اب تک 100سے زائد تبتی باشندے خود کو نذرِ آتش کرچکے ہیں۔

چین تبتی باشندوں کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور ان کے اس احتجاج کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔
XS
SM
MD
LG