رسائی کے لنکس

ایک سرکاری ویب سائٹ پر 20 لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں نے ایک پارلیمانی پٹیشن پر دستخط کئے ہیں، جس میں انھوں نے یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت پر دوسرا ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے

یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے ووٹ ڈالنے کے ایک روز بعد ہی اب برطانیہ میں ایک آن لائن دستخطی مہم جاری ہے جس میں یورپی اتحاد کےحامیوں نے ایک اور ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور قانون سازوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایوان میں اس تجویز پر بحث کے بارے میں غور کریں۔

ایک سرکاری ویب سائٹ پر 20 لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں نے ایک پارلیمانی پٹیشن پر دستخط کئے ہیں، جس میں انھوں نے یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت پر دوسرا ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمان میں کسی معاملے پر بحث کے لیے ایک لاکھ دستخط درکار ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے اس تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

نئے ریفرینڈم کے مطالبے کی حمایت میں جاری اس مہم کو پارلیمنٹ کے ویب سائٹ کی سب سے مقبول آن لائن مہم قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہفتے کی دوپہر میں ویب سائٹ پر ایک منٹ میں 3000 سے زائد دستخطوں کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

جمعے کی شب ویب سائٹ پر لوگوں کے غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ایک وقت میں پارلیمنٹ کی ویب سائٹ بیٹھ گئی تھی، جبکہ ہفتے کی صبح 10 لاکھ سے زائد افراد نے اس درخواست پر دستخط کئے تھے۔

یہ درخواست دراصل 48 فیصد ووٹروں کے غصےکو بھی ظاہر کرتی ہے، جنھوں نے ریفرینڈم میں یونین کی حمایت میں ووٹ ڈالا تھا اور جو برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ مضبوط اور محفوظ سمجھتے ہیں۔

مذکورہ پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کا تعلق زیادہ تر برطانیہ کے بڑے شہروں سے ہے جن میں لندن، اسکاٹ لینڈ قابل ذکر ہیں، جہاں نوجوان ووٹروں کی غالب اکثریت نے یورپی اتحاد کی حمایت ظاہر کی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ولیم اولیور کی طرف سے اس درخواست 23 جون سے قبل پوسٹ کیا گیا تھا جس میں انھوں نے یہ موقف اپنایا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس اصول کو لاگو کیا جانا چاہیئے جس کے تحت کسی ریفرینڈم میں اگر مجموعی ووٹوں کی شرح 75 فیصد سے کم ہے اور حمایت یا مخالفت کی مہم 60 فیصد سے کم ووٹروں کی حمایت حاصل کرتی ہے تو پھر ایک نیا ریفرینڈم ہونا چاہیئے۔

جمعرات کو منعقدہ ریفرینڈم کے نتیجے میں 52 فیصد ووٹروں یا 17,410,742 لوگوں نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا اور اس ریفرینڈم کے فاتح بنے ہیں۔

ریفرینڈم میں ووٹوں کی مجموعی شرح 72 فیصد سے کچھ زیادہ رہی اور تین کروڑ سے زیادہ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

یوگوو کے ووٹ بریک ڈاؤن کے حوالے سے ابتدائی جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ 18 سے 24 سال کے ہر چار میں سے تین نوجوانوں نے ریفرینڈم میں یورپی یونین میں رہنے کے لیے اپنا ووٹ ڈالا ہے۔

اس ریفرینڈم کے نتائج سے ملک بھر میں نوجوانوں، بوڑھوں، شمال اور جنوبی شہروں، دیہی علاقوں، یونیورسٹی کے اعلی تعلیم یافتہ اور معمولی پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان اختلاف ظاہر ہوا ہےخاص طور پر مشرقی انگلینڈ اور دارالحکومت لندن اور اسکاٹ لینڈ کے لوگوں کے درمیان یونین کی رکنیت کے معاملے میں مکمل طور پر تقسیم کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی وقت کےمطابق رات آٹھ بجکر بیس منٹ تک نئے ریفرینڈم کی حمایت میں 2,248,077 دستخط کئے جاچکے ہیں، جو پارلیمنٹ میں باضابطہ بحث کے لیے لائی جانے والی پٹیشن کےمقابلے میں 20 گنا زیادہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG