رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ میں پولیو کے دو نئے کیسز رپورٹ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں سال اب تک پولیو سے متاثرہ پانچ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں کراچی اور کوئٹہ سے کیسز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے دو بچوں میں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس سے رواں سال اس صوبے میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ہنگو کے نواحی علاقے لختئی بانڈہ میں قائم افغان مہاجرین کے کیمپ میں مقیم سات ماہ کی بچی پولیو وائرس سے متاثر ہوئی ہے جب کہ اسی روز پشاور کے علاقے حیدر کالونی اخون آباد سے تعلق رکھنے والا دو ماہ کے ایک بچے میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔

رواں سال اب تک پولیو سے متاثرہ پانچ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں کراچی اور کوئٹہ سے کیسز بھی شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا نے پولیو کے مرض پر قابو پانے کے لیے محکمہ صحت اور اقوام متحدہ کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جس کے فوکل پرسن محمد اکبر خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پچھلے چند سالوں کی نسبت حالات اطمینان بخش ہیں لیکن نئے کیسز سامنے آنا ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔

"تین کیسز ابھی آئے ہیں ہمارے لیے یہ چیلنج ہے۔ مائیکرو لیول تک اپنی مہم کو لے کر جائیں گے کہ کہاں کہاں کمی ہے اس کی شناخت کر کے آئندہ پروگرام میں نئی حکمت عملی کے ساتھ جو ہماری تین چار مہم رہ گئی ہیں اس پر ہم (وائرس کے پھیلاؤ) پر قابو پالیں۔"

پاکستان اور افغانستان دنیا کے دو واحد ممالک ہیں جہاں اس موذی وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل سرحد ہے اور حکام یہ کہتے آئے ہیں کہ سرحد کے آر پار لوگوں کی بڑی تعداد کی نقل و حرکت کی نگرانی کو موثر بنا کر اس وائرس کو بھی منتقل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے سرحدی گزرگاہوں پر پاکستان نے اپنی طرف انسداد پولیو مرکز بنا رکھے ہیں جہاں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلائی جاتی ہے۔

2014ء میں پاکستان میں تین سو سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن مربوط کوششوں کی وجہ سے گزشتہ سال صورتحال میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی اور پورے ملک سے پولیو سے متاثرہ صرف 54 کیسز سامنے آئے۔

XS
SM
MD
LG