رسائی کے لنکس

پاکستان کے دو سائنس دانوں نے جرمن ریسرچ ایوارڈ جیت لیا


چھٹے گرین ٹیلنٹ ایواڈ کی شاندار تقریب 7 نومبر کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہوئی۔

پاکستان کے دو نوجوان سائنس دانوں نے 'جرمن وزارت تعلیم اور تحقیق' کا رواں برس کا ریسرچ ایواڈ جیت لیا ہے۔

جرمن محکمۂ تعلیم کی طرف سے سائنس کے مختلف شعبوں میں تحقیق کا بین الاقوامی مقابلہ جیتنے والے کامیاب سائنس دانوں میں دو پاکستانی ڈاکٹر اسد محمود اور ڈاکٹر محمد سیف الرحمن بھی شامل ہیں جنھوں نے پائیدار ترقی پر تحقیق کے لیے جامع نقطۂ نظر پیش کرنے پر جرمن 'گرین ٹیلنٹ ایوارڈ2014 ' حاصل کیا ہے۔

چھٹے گرین ٹیلنٹ ایواڈ کی شاندار تقریب 7 نومبر کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہوئی۔ تقریب کی میزبان وزیر تعلیم اور تحقیق کی پروفیسر جوہانا وانکا نے اس موقع پر مقابلہ جیتنے والے 25 خوش نصیب سائنس دانوں کو گرین ٹیلنٹ ایواڈز سے نوازا۔

سائنس کے مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی کے حوالے سے منفرد خیالات اور تحقیق و جستجو رکھنے والے دنیا بھر کے نوجوان سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال جرمن حکومت کی طرف سے انٹرنشنل گرین ٹیلنٹ مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

رواں برس گرین ٹیلنٹ ایواڈز جیتنے والے نوجوان سائنس دانوں کے ناموں کا اعلان اعلٰی سطحی ماہرین کی جیوری نے کیا جنھوں نے دنیا کے تقریبا 100 سے زائد ممالک کے 800 امیدواروں میں سے 'پائیدار ترقی' کے لیے بہترین تحقیق پیش کرنے والے سائنسدانوں کو ایوارڈز کے لیے منتخب کیا۔

جرمن فیڈرل منسٹری آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے مطابق گرین ٹیلنٹ ایواڈز حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو دو ہفتے کے لیے گرین ٹیلنٹ بین الاقوامی فورم میں حصہ لینے کے لیے جرمنی مدعو کیا گیا تھا۔ یہ انٹرنشنل فورم 26 اکتوبر سے 10 نومبر تک جاری رہا جبکہ اس فورم کے تحت آئندہ برس ایک بار پھر سے سائنس دانوں کو تحقیقی پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

وزیرتعلیم جوہانا وانکا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ایواڈز کے انعقاد کا مقصد دنیا بھر میں پائیدار ترقی پر کام کرنے والے نوجوان سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور انھیں اس تقریب کے ذریعے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ان کے کام سے دوسروں کو آگاہی حاصل ہو سکے۔

ڈاکٹر اسد محمود

ڈاکٹر اسد محمود

ڈاکٹر اسد محمود ( پی ایچ ڈی، توانائی اور ماحولیاتی انجنئیرنگ)

تیس سالہ اسد محمود پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو کی حیثیت سے 'کوریا انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی' میں ایندھن کے سیلز کی ٹیکنالوجی کی ترقی پر کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر اسد محمود کی تحقیق کا موضوع کم درجہ حرارت کے ایندھن سیلز 'الیکٹروڈ' کی مائیکرو اسٹرکچرل خصوصیات پر تحقیق ہے۔ اپنے تحقیقی منصوبے میں وہ ایندھن کے سیلز کی ان خصوصیات پر کام کر رہے ہیں جن سے جدید ٹیکنالوجی کے اخراجات میں کمی لا کر اسے مزید پائیداربنایا جا سکے تاکہ یہ ٹیکنالوجی زیادہ سے زیادہ تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے۔

نوجوان سائنس دان اسد محمود کی پائیدار انرجی سسٹم کے لیے سائنسی تحقیق کے کام کو ججز کی طرف سے سراہا گیا جن کا کہنا تھا کہ ان کا تحقیقی کام انسانیت کی خدمت کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد سیف الرحمن

ڈاکٹر محمد سیف الرحمن

ڈاکٹر محمد سیف الرحمن (پی ایچ ڈی، سول اور ماحولیاتی انجینئرنگ)

اکتیس سالہ ڈاکٹر محمد سیف الرحمن کیمیکل انجینئیرنگ کا پس منظر رکھنے کے بعد فی الحال بائیو انرجی اور ماحولیاتی انجنیئرنگ میں تحقیق کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سیف الرحمن 'بائیو فیول' پیداوار کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ اس عمل کے دوران قابل قدر 'بائیو مصنوعات' کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ مثلاً 'بائیو سوربینٹس' مصنوعات جنہیں گندا پانی دوبارہ سے استعمال کرنے کے قابل بنانے کے عمل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ججز نے پائیدار ترقی پر تحقیق کے لیے پروفیسر محمد سیف الرحمن کے منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ ان کے منصوبے اس لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ براہ راست عملی زندگی پرلاگو ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG