رسائی کے لنکس

سرحد پر فائرنگ سے دو شہری ہلاک، پاکستان کا بھارت سے احتجاج


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان میں ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ سرحد پر امن و ہم آہنگی کے لیے 2003ء کے فائربندی معاہدے کی پاسداری کرے۔

پاکستان نے سیالکوٹ کے قریب ورکنگ باؤنڈری پر سرحد پار سے بھارتی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے کم از کم دو شہریوں کی ہلاکت پر بھارت سے احتجاج کرتے ہوئے فائربندی معاہدے کی پاسداری پر زور دیا ہے۔

منگل کو پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ورکنگ باؤنڈری پر پکھلیاں، اکنور سیکٹر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 14 اور 22 سال کے دو نواجوان ہلاک جب کہ تین بچوں اور دو خواتین سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ صبح ساڑھے پانچ بجے بھارت کی طرف سے تین مختلف چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس پر پاکستانی فورسز نے جوابی فائرنگ کی۔ بعد ازاں بیان کے مطابق بھارتی فوجیوں نے تمام چیک پوسٹوں پر فائرنگ شروع کرتے ہوئے علاقے میں شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائربندی کی مسلسل خلاف ورزی اور اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے پر بھارت کو اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

بیان میں ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ سرحد پر امن و ہم آہنگی کے لیے 2003ء کے فائربندی معاہدے کی پاسداری کرے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کے اس تازہ دعوے پر تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن بھارتی سرحدی فورسز کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سرحد پار سے فائرنگ میں پہل کرتے ہوئے متعدد بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس سے اس کے ہاں ایک شخص ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے جب کہ اس سے قبل حالیہ ہفتوں میں متعدد بار ورکنگ باؤنڈری اور متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

اُدھر پاکستانی فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرحد پر کسی بھی طرح کے خطرے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

دونوں ملک فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر کشیدہ صورت اختیار کر چکے ہیں۔

پاکستان میں حکمران جماعت کے قانون ساز سینیٹر عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کی طرف سے مذاکرات کی بات کے ساتھ ساتھ سرحد پر ایسے واقعات کا پیش آنا ان کے نزدیک بدقسمتی سے "پڑوسی ملک کی دوغلی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے جس سے پاکستانی عوام بھارت سے تعلقات کے متعلق عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔"

پاکستان نے سرحد پر پیش آنے والے واقعات پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو بھی نوٹس لینے کا کہا تھا جس پر عالمی ادارے کے مبصری مشن کے عہدیداروں نے پاکستانی سرحدی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ہی بھارت نے دونوں ملکوں کے مشیران برائے قومی سلامتی کی نئی دہلی میں ملاقات تجویز کی تھی جس میں شرکت سے متعلق تاحال پاکستان نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ اس مجوزہ ملاقات کا ایجنڈا طے ہونے کے بعد ہی وہ اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG