رسائی کے لنکس

پاکستان کے دو سرکاری اداروں کے آف شور اکاؤنٹس ہیں: عادل گیلانی

  • عشرت سلیم

عادل گیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی کی قومی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ نے امریکہ اور پیرس میں دو فائیو سٹار ہوٹلوں کی مالک پی آئی اے انویسٹمنٹ کمپنی کو برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹر کرا رکھا ہے۔

بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کے دو سرکاری اداروں کے بیرون ملک اکاؤنٹس موجود ہیں مگر ان سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام صیغہ راز میں ہیں۔

یہ بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت پاناما پیپرز کے انکشافات سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار عادل گیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی کی قومی فضائی کمپنی ’پی آئی اے‘ نے امریکہ اور پیرس میں دو فائیو سٹار ہوٹلوں کی مالک پی آئی اے انویسٹمنٹ کمپنی کو برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹر کرا رکھا ہے۔

دوسری کمپنی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ہے جس کے 25 فیصد حصص کی 2005 میں نجکاری کی گئی تھی۔

بعد میں ابراج کیپٹل نے اس کے حصص خرید کر اس کا انتظام سنبھال لیا تھا اور نام تبدیل کر ’کے الیکٹرک‘ رکھ دیا تھا۔

عادل گیلانی کا کہنا تھا کہ ابراج ایک آف شور کمپنی ہے اور کے الیکٹرک کے اصل سرمایہ کاروں کے ناموں کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی دیگر آف شور کمپنیاں بھی سرمایہ کاری بھی کرتی ہیں مگر ان کے مالکان کے ناموں کا علم نہیں ہو پاتا۔

عادل گیلانی نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کا مقصد صرف ٹیکس چھپانا، غیرقانونی پیسہ چھپانا اور مالکان کے نام چھپانا ہوتا ہے۔

ادھر وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں پیر کو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی سربراہی پاکستان مسلم لیگ (نون) کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں پاناما پیپرز انکشافات پر مجوزہ تحقیقاتی کمیشن کے دائرہ کار پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس معاملے پر حزب اختلاف کے رہنماؤں سے مشاورت کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

عادل گیلانی نے کہا کہ مجوزہ کمیشن کو معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر پاکستان میں آف شور کمپنیوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنی چاہئیے۔

’’(دوسرا) پاکستان کی کوئی بھی کمپنی، کوئی بھی ٹیکس دہندہ، کوئی بھی شہری اگر آف شور کمپنی بنائے تو وہ وفاقی ریونیو بورڈ کو اس کے بارے میں بتائے، اس کے اکاؤنٹ کی معلومات دے، ٹیکس جو پاکستان میں بنتا ہے اس کے بارے میں بتائے، اور ٹیکس ضرور دے۔‘‘

پاناما کی لا فرم موساک فونسیکا کی سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم کے تین بچے حسن، حسین اور مریم بیرون ملک کمپنیوں کے مالک ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے پر تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ پارٹی کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔

XS
SM
MD
LG