رسائی کے لنکس

امریکہ: دو قانون سازوں کا روسی رہنما کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ


لوگ 27 فروری 2015 میں قتل ہونے والے حزب اختلاف کے رہنما بوریس نِمساف کی یاد میں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمع ہیں۔

لوگ 27 فروری 2015 میں قتل ہونے والے حزب اختلاف کے رہنما بوریس نِمساف کی یاد میں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمع ہیں۔

فروری 2015 میں حکومت کے اتنے بڑے ناقد کے کریملن کے نزدیک قتل کی خبر کی گونج پورے روس میں سنائی دی تھی۔

امریکہ کے ایوان نمائندگان کے دو ارکان روس کے حزب اختلاف کے رہنما بوریس نِمساف کے 2015 میں ہونے والے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایوان نمائندگان میں ذیلی خارجہ کمیٹی برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ الیانا راس لیٹینن اور کمیٹی برائے خارجہ امور کے دوسرے سب سے اہم رکن الیئیٹ اینگل نے نے ایک قرارداد متعارف کرائی ہے جس میں امریکہ کی حکومت سے روس کے صدر ولادیمر پوتن پر بوریس نِمساف کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

الیانا روس لیٹینن نے کہا کہ ’’بوریس کے قتل کے حالات انتہائی باعث تشویش ہیں مگر ان پر مناسب تحقیقات نہیں کی گئیں۔ بوریس کے قتل پر مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیئیں اور میں انتظامیہ پر زور دوں گی کہ وہ اس کے لیے پوتن حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے کریں۔‘‘

فروری 2015 میں حکومت کے اتنے بڑے ناقد کے کریملن کے نزدیک قتل کی خبر کی گونج پورے روس میں سنائی دی تھی۔

حزب اختلاف کے ارکان نے اس کا الزام حکومت پر عائد کیا تھا اور اس شبہے کا اظہار کیا گیا تھا کہ نمساف کی طرف سے پوتن پر شدید تنقید کے جواب میں اس کے قتل کا حکم دیا گیا۔

اینگل نے کہا کہ نمساف کے قاتلوں کو پکڑنے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ یہ قرارداد ’’روس کے اندر بڑھتے ہوئے خطرناک حملوں کی شکار جمہوری اور سول سوسائیٹی تنظیموں کے لیے امریکی معاونت میں اضافے کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG