رسائی کے لنکس

مقامی حکام ساحلی علاقوں اور دریائی علاقوں سے لوگوں کو "زبردستی محفوظ مقامات پر منتقل" کر رہے ہیں۔ اس منتقلی کی وجہ بارشوں اور طوفان سے یہاں ممکنہ سیلاب یا مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ ہے۔

سمندری طوفان "کوپو" اتوار کی صبح فلپائن کے شمالی حصے سے ٹکرا گیا جس سے مواصلات اور بجلی کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

فی الوقت یہ طوفان اورورا صوبے کے ایک دور افتادہ ساحلی علاقے کاسیگوران سے ٹکرایا ہے اور نسبتاً سست رفتار سے بڑھنے والے اس طوفان کے باعث تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ "کوپو" لیوزون جزیرے میں تین روز تک رہے گا اور اس سے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق کوپو سے آئندہ چند روز تک 600 ملی میٹر بارشیں ہو سکتی ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے سربراہ الیگزینڈر پاما نے کہا ہے کہ "کوپو کی رفتار اتنی سست ہے بلکہ یہ رینگ رہا ہے۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ یہ تھوڑی رفتار پکڑے اور جلد ہمیں اس سے چھٹکارا ملے"۔

بہت سی پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں جب کہ مقامی حکام ساحلی علاقوں اور دریائی علاقوں سے لوگوں کو "زبردستی محفوظ مقامات پر منتقل" کر رہے ہیں۔ اس منتقلی کی وجہ بارشوں اور طوفان سے یہاں ممکنہ سیلاب یا مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ ہے۔

طوفان کے باعث تقریباً دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

ماہرین موسمیات نے بھی خطرہ ظاہر کیا ہے کہ کوپو سیلابوں اور مٹی کے تودے گرانے کا سبب بن سکتا ہے۔

صدر بنیگنو اکیونو نے بھی لوگوں کو اس طوفان سے متعلق خبردار کیا ہے۔

"یہ واضح ہے کہ آپ کی حکومت کسی بھی طرح کے نقصان سے بچنے کے ہدف کے ساتھ یہاں موجود ہے۔ لیکن میں تمام مقامی حکومتوں اور برادریوں اور عوام سے ہمیں اس چیلنج سے مل کر نبرد آزما ہونا ہے۔"

نومبر 2013ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صدر نے ٹی وی پر آ کر اس طرح کا انتباہ جاری کیا ہے۔ 2013ء میں ہائیان نامی طوفان نے فلپائن میں تباہی مچائی تھی جس سے سات ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاپتا ہو گئے تھے۔

فلپائن میں سمندری طوفان کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ یہاں ہر سال تقریباً 20 سمندری طوفان آتے ہیں اور ان میں اکثر ہلاکت خیز ثابت ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG