رسائی کے لنکس

امریکی شہری کو قتل کرنے پر خاتون کو سزائے موت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ابوظہبی کی پولیس کا کہنا ہے کہ مجرم خاتون نے امریکی خاتون کو ان کی قومیت کی بنا پر قتل کیا جس کا مقصد ان کے بقول ملک میں غیر ملکی شہریوں میں افراتفری پیدا کرنا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے ایک امریکی شہر کو قتل کرنے کے الزام میں ایک خاتون کو سزائے موت سنائی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "ڈبلیو اے ایم" کے مطابق اس خاتون نے ایک امریکی خاتون استاد ایبولیا رائن کو گزشتہ سال دسمبر میں ابوظہبی میں ایک شاپنگ مال کے باتھ روم میں تیز دھار آلے سے قتل کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مجرم خاتون نے امریکی خاتون کو ان کی قومیت کی بنا پر قتل کیا جس کا مقصد ان کے بقول ملک میں غیر ملکی شہریوں میں افراتفری پیدا کرنا تھا۔

اسی خاتون نے ایک اور امریکی شہری کے گھر کے باہر بم بھی نصب کیا تھا لیکن حکام کو بروقت اس کا سراغ ملنے کی بعد اسے ناکارہ بنا دیا گیا۔

ابوظہبی میں قومی اخبار نے اس اماراتی خاتون کا نام آلا بدر عبداللہ الہاشمی بتایا ہے جس کی عمر 30 سال ہے اور وہ چھ بچوں کی ماں ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس عورت نے امریکی خاتون کو قتل کرتے وقت روایتی سیاہ لباس زیب تن کر رکھا تھا اور چہرے کو نقاب سے ڈھانپ رکھا تھا۔

ایبولیا کے تین بچے ہیں اور وہ ابوظہبی میں اپنے دو گیارہ سالہ جڑواں بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ یہاں منتقل ہونے سے قبل وہ کولوراڈو کے ایک اسکول میں تدریس سے منسلک تھیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وفاقی عدالت عظمیٰ کے جج فلاح الحجری اس مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ "متحدہ عرب امارات کے معاشرے میں غیر معمولی جرائم ہونا شروع ہو گئے ہیں جن کا مقصد دہشت پھیلانا ہے۔" ان کے بقول موت کی سزا "ایسے جرائم سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔"

آلا کو قتل کے علاوہ یمن میں القاعدہ کو رقم بھیجنے اور متحدہ عرب امارات کی ساکھ خراب کرنے کی غرض سے اس کی معلومات انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا بھی مجرم قرار دیا گیا۔

عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی لیکن ملک کے بادشاہ کو اسے ختم کرنے کا اختیار ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بعض جرائم میں موت کی سزا موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد بہت ہی کم ہوتا ہے۔ آخری مرتبہ 2014ء اور اس سے پہلے 2011ء میں دو مجرموں کو قتل کے جرائم میں دی گئی موت کی سزا پر عملدرآمد ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG