رسائی کے لنکس

متحدہ عرب امارات:انتخابات کی تیاریاں شروع

  • فلپ ویلمین

متحدہ عرب امارات:انتخابات کی تیاریاں شروع

متحدہ عرب امارات:انتخابات کی تیاریاں شروع

سارے مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں سب سے بڑے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں، اور اصلاحات کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ملک کے قانون ساز ادارے، فیڈرل نیشنل کونسل، کے لیے ووٹ دینے والوں کی تعداد جو گذشتہ انتخاب میں 7000 تھی، 80,000 کر دی گئی ہے ۔

گذشتہ ہفتے کے شروع میں، وزیرِ مملکت انور محمد گارگش نے تصدیق کی کہ آنے والے برسوں میں ووٹ دینے کے اہل شہریوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا یہاں تک کہ بالآخر ایک خاص عمر سے زیادہ کے تمام لوگوں کو ووٹ دینے کا حق مل جائے گا۔’’ہم نے ہمیشہ یہی کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا سیاسی عمل میں شرکت کو جدید بنانے کا پروگرام مسلسل جاری رہے گا۔ ہم نے بار بار کہا ہے کہ یہ عمل بہت سے بتدریج اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا۔‘‘

گارگش نے کہا کہ اگرچہ اصلاحات کے منصوبوں پر عرب دنیا میں اصلاحات کی تحریک شروع ہونے سے پہلے کام جاری تھا، لیکن علاقے میں بے چینی کی وجہ سے ووٹروں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ کیا گیا۔ 24 ستمبر کو اہل ووٹرز فیڈرل نیشنل کونسل کے 40 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ امارات کی سات ریاستوں کے حکمران، بقیہ 20 نمائندے چنیں گے۔ متحدہ عرب امارات دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ یہ سات عملداریوں پر مشتمل ہے جن کے حکمران شیخ ہیں اور دارالحکومت ابوظہبی ہے ۔

اگرچہ اس علاقے کا شمار فی کس سالانہ آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے زیادہ آمدنی والے ملکوں میں ہوتا ہے، لیکن شمال کی پانچ امارات، شارجہ، عجمان، ام القوین، راس الخیمہ اور فجیرہ، کا معیارِ زندگی دبئی اور ابو ظہبی کے مقابلے میں نمایاں طور پر پست ہے ۔ شمال میں بجلی اور گیس کی قلت کی وجہ سے بار ی باری بلیک آؤٹ بھی ہوتا ہے۔ اس علاقے میں اقتصادی ترقی کی رفتار سست اور نوجوانوں میں بے روزگار ی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ حکومت نے یہ سوچتے ہوئے کہ اگر گڑ بڑ ہوئی تو اسی علاقے سے شروع ہوگی، مارچ میں بنیادی سہولتوں کے مقامی منصوبوں میں ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

کہا جاتا ہے کہ فیڈرل نیشنل کونسل میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی شمال کے شہریوں کو خوش رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ تا ہم، ناقدین کہتے ہیں کہ یہ اضافہ بے معنی ہے جب تک کہ کونسل کو فیصلے کرنے کا زیادہ اختیار نہ ملے۔ پھر یہ بھی ہے کہ ووٹروں کی تعداد میں اضافے کے بعد بھی، کُل آبادی کا صرف دسواں حصہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہوگا۔

ڈرہم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار کرسٹوفر ڈیوڈسن کہتے ہیں کہ اس اقدام سے کوئی اہم تبدیلی نہیں آئے گی۔’’حکومت اپنے شہریوں کے سامنے خود کو جوابدہ بنانے کے لیئے جو نمائشی اقدامات کر رہی ہے، یہ ان میں سے ایک ہے ۔ لیکن شاید زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت خود کو بین الاقوامی برادری کے سامنے جوابدہ بنانا چاہتی ہے۔ یہ کسی قدر لبرل مطلق العنان حکومت کا ماڈل ہے، یہ حقیقی جمہوریت نہیں جس میں عوام کی نمائندگی ہوتی ہو۔‘‘

فیڈرل نیشنل کونسل کے پاس قانون سازی کا کوئی حقیقی اختیار نہیں۔ اس کا رول اپنی سفارشات پیش کرنا ہے جن پر عمل در آمد ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ خلیج کے علاقے کے دوسرے قانون ساز اداروں کی طرح، یہاں بھی اصل اختیارات حکمراں خاندانوں کے پاس ہیں۔

اس سال کے شروع میں امریکہ اور اس کے نیٹو کے اتحادیوں نے متحدہ عرب امارات کی تعریف کی کہ اس نے اقوام متحدہ کی منظوری سے لیبیا میں نو فلائی زون پر عمل در آمد میں مفید کردار ادا کیا۔ لیکن اگرچہ یہ ملک شمالی افریقہ کے ملک لیبیا میں جمہوریت کی حامی باغیوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے، ہمسایہ ملک بحرین میں اس نے جمہوریت کی تحریک کو کچلنے میں سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔

ڈیوڈسن کہتے ہیں کہ مستقبل میں متحدہ عرب امارات کی حدود میں سیاسی اصلاحات کے مطالبات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ہم پہلے ہی یہ دیکھ چکے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو جن میں دانشور، بلاگرز اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، گرفتار کیا جا چکا ہے ۔

اگرچہ متحدہ عرب امارات میں اس قسم کے ہنگامے نہیں ہوئے جو علاقے کے دوسرے حصوں میں دیکھنے میں آئے ہیں، لیکن معاشرے کے 130 افراد نے مارچ میں ایک عرضداشت پر دستخط کیے جس میں آئینی اور پارلیمانی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان میں سے پانچ افراد کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا اور ان پر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے ۔

نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ سے وابستہ ایک محقق سمیر مسقطی کہتے ہیں کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب علاقے میں پھیلے ہوئے اضطراب کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے حکام بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ وہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فیصلہ کن اور متنازع انداز سے اقدامات کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام یہ احساس کر لیں گے کہ یہ طریقۂ کار صحیح نہیں ہے اور وہ اس مہم کو روک دیں گے۔

اس مہینے پانچ سرگرم کارکنوں کے مقدمے کی پہلی سماعت کے موقع پر، درجنوں مظاہرین حکومت کی حمایت میں جمع ہوگئے ۔ انھوں نے ملزموں کی مذمت کی اور انہیں غدار کہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کے بیشتر حصے میں، حکمراں بہت مقبول ہیں اور امکان یہی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام اپنی مخصوص طرز کی جمہوریت پر کاربند رہیں گے اور عوام کی طرف سے کوئی خاص مخالفت نہیں ہوگی۔

XS
SM
MD
LG